انوار القراٰن (جلد ۱)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 494 of 587

انوار القراٰن (جلد ۱) — Page 494

تغییر حضرت خلیفة المسیح الثالثة ۴۹۴ سورة ال عمران لاکھ ہیرے اور اس زمانہ میں ایک لاکھ میں جو ہیرا ملتا تھا اب شاید دوکروڑ میں بھی نہ ملے۔ان کو خیال پیدا ہوا کہ ہم مٹادیں گے اور ہوا یہ کہ پہلے اس نے یہ ترکیب کی۔یہ اس کا بڑا زبردست منصوبہ ہے۔عام طور پر ہمارے جو مبلغ ہیں وہ اپنی تقریروں میں اس حصہ کو نہیں لیتے۔یہ جوار تداد کا فتنہ پیدا ہوا ہے عرب میں، یہ سارا منصوبہ ایران کے کورٹ میں یعنی بادشاہ نے خود چھ سو عرب سرداروں کو بلا کے یہ منصوبہ بنایا تھا اسلام کو مٹانے کے لئے۔تو حملہ تو کر دیا اس نے جس وقت یہ نا کام ہوا منصو بہ اس کا تو چھیڑ چھاڑ اس نے اور دوسرے طریقے پر کی ہوگی۔حضرت ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے خالد بن ولید ابھی مدینہ نہیں پہنچے تھے ان کو پیغام بھیجا کہ یہ سرحدیں جو ہیں وہ محفوظ نہیں ہیں۔فتنہ تو شروع ہو گیا تو چلے جاؤ۔جو تمہارے پاس فوج ہے وہ بھی لے کے چلے جاؤ۔اٹھارہ ہزار فوج ان کے پاس۔چار ہزار گھوڑ سوار اور چودہ ہزار پیادہ اور کسری کے مقابلے میں۔انہوں نے پھر بعد میں ان کو حکم مل گیا تھا قیصر کے مقابلے میں جانے کا چار پانچ لڑائیاں لڑکی ہیں۔ہر لڑائی میں کسری کی تازہ دم فوج ایک نئے کور کمانڈر کے ماتحت ساٹھ ستر ہزار سے لے کے ایک لاکھ کی تعداد میں آتی تھی اور یہ بیچارے وہی اٹھارہ ہزار کچھ شہید ہو گئے کچھ زخمی ہو گئے۔تھکے ہوئے اور ان کا مقابلہ اس زمانے میں اس قسم کا تو نہیں تھا امریکہ سے بٹن دبایا اور گولہ برساد یا کسی چھ ہزار سات ہزار میل پر۔آمنے سامنے ہو کر لڑنا پڑتا تھا۔فرق تعداد کا اتنا تھا کہ ہر آدھے گھنٹے ، گھنٹے کے بعد اگلی صف لڑنے والی کسری کی پیچھے چلی جاتی تھی اور تازہ دم آگے آجاتی تھی اور مسلمانوں کی ایک ہی صف اور وہ صبح سے لے کے شام تک لڑنے والے اور جیتتے چلے جاتے تھے۔کیا چیز جتارہی تھی ان کو؟ دنیا کا کوئی اصول تو نہیں ان کو جتا سکتا۔یہ وعدہ تھا ان سے انتم الاعلون فوقیت تمہیں حاصل ہوگی۔اِنْ كُنْتُم مُّؤْمِنِينَ ایمان کے تقاضے پورے کرتے چلے جاؤ اللہ تعالیٰ کی نعماء سے اپنی جھولیوں کو بھرتے چلے جاؤ۔پھر جس وقت یہ جنگ جو تھی ایران کے خلاف یہ اپنے عروج کو پہنچی ہوئی تھی اس وقت قیصر نے سوچا پھنسا ہوا ہے عرب کا مسلمان۔یہ موقع ہے ان کو پیچھے سے حملہ کر کے مٹادو۔دو محاذ کھل گئے۔دونوں کی زبر دست طاقتیں سامنے آ گئیں۔اس وقت ان کو حکم ملا تھا کہ آدھی فوج لے کے تم اس محاذ پر چلے جاؤ یعنی وہاں چھوڑ دیئے تھے پیچھے صرف نو ہزار ہی کسری کی فوجوں کا مقابلہ کرنے کے لئے لیکن اس وقت سر نہیں گنے جاتے تھے۔اُس وقت تو اِن کُنتُم مُّؤْمِنِينَ سامنے رکھ کے دلوں کی