انوار القراٰن (جلد ۱) — Page 490
تفسیر حضرت خلیفہ المسح الثالث ۴۹۰ سورة ال عمران ہے مگر وہاں یہ ذکر نہیں ہوتا کہ اللہ تعالیٰ پر ایمان لانے کی بات ہورہی ہے یا غیب پر ایمان لانے کی بات ہو رہی ہے یا رُسل پر ایمان لانے کی بات ہو رہی ہے یا حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لانے کی بات ہورہی ہے یا قرآن کریم پر ایمان لانے کی بات ہو رہی ہے وغیرہ۔غرض ایسی صورت میں تفصیل نہیں دی ہوتی اللہ تعالیٰ صرف یہ فرماتا ہے کہ ایمان لاؤ۔دراصل جہاں کہیں بھی ایمان کے لفظ کو اس طریق پر استعمال کیا گیا ہے وہاں ایمان کے تمام تقاضے مراد ہیں یعنی اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں ایمان کے جو بھی تقاضے مقرر فرمائے ہیں اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی تشریح کی ہے ان تقاضوں کو پورا کرنا مراد ہے مثلاً ایک جگہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ اگر تم ایمان لانے والے ہو گے تو کوئی غیر تم پر غالب نہیں آئے گا۔آندھ الأَعْلَوْنَ إِن كُنتُم مُّؤْمِنِينَ اب یہاں مومن کے لفظ کے ساتھ مُؤْمِن بِاللهِ یا مُؤْمِنُ بِالْغَيْبِ يَا مُؤْمِنْ بِالْآخِرَةِ وغيره نہیں ہے بلکہ محض مومن کا لفظ ہے۔جس کا مطلب یہ ہے کہ اگر تم ایمان کے سب تقاضوں کو پورا کرنے والے ہو گے تو اللہ تعالیٰ کی رحمت اور اس کی نصرت تمہارے شامل حال ہوگی اور تم ہی غالب آؤ گے غیر تم پر غالب نہیں آئے گا۔پس جب اللہ تعالی کی ساری محبت اور ساری نصرت اور ساری رحمت اور ساری برکت کو جذب کرنے اور اس کی رضا کو حاصل کرنے کے لئے ایمان کے سب تقاضوں کو پورا کرنا ضروری ٹھہرا تو پھر ہمیں ایمان کے سب تقاضوں کا علم بھی ہونا چاہیے اس سلسلہ میں اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں ایمان کے جو مختلف تقاضے بیان فرمائے ہیں ان کے متعلق بھی اللہ تعالیٰ کی توفیق سے سلسلہ وار کچھ بیان کروں گا۔ایمان کا پہلا تقاضا اور وہی دراصل ایمان کی روح اور اسلام کی جان ہے وہ ایمان باللہ ہے پس جب میں نے کہا تھا کہ ایمان میں پختگی پیدا کرو تو میرا یہی مطلب تھا کہ ایمان کے جتنے پہلو اور جتنی شاخیں ہیں ہر پہلو اور شاخ کے متعلق اپنے ایمانوں میں پختگی پیدا کرو ایمان کے مضمون کے اندر جو بنیادی چیز ہے وہ ایمان باللہ ہے یعنی اللہ پر ایمان لانا۔اللہ پر ایمان لانا اور لانے میں بڑا فرق ہے ایک شخص اللہ تعالیٰ کو جانتا ہی نہیں لیکن زبان سے کہتا ہے کہ میں اللہ پر ایمان لاتا ہوں اللہ پر حقیقی