انوار القراٰن (جلد ۱) — Page 489
تغییر حضرت خلیفة امسح الثالث ۴۸۹ سورة ال عمران ہم نہیں جانتے کہ یہ ہمارے رب کو مقبول بھی ہوں گی یا نہیں ہم نے سوائے اس کے کسی اور کے سامنے جواب دہ نہیں ہونا اور جس کے سامنے ہم جواب دہ ہیں اس کے متعلق ہم کہہ نہیں سکتے کہ قبولیت کو ہماری نیکیاں پہنچی ہیں یا نہیں پس وہ لوگ نیکیاں تو قرآن کریم کے بتائے ہوئے طریق کے مطابق ہر آن اور ہر وقت بجالاتے رہتے ہیں لیکن تمام نیکیاں بجالانے کے بعد بھی ان کے دلوں میں یہ خوف رہتا ہے کہ جس کے سامنے جواب دہ ہیں ہم نا معلوم اس نے ہماری نیکیوں کو قبول بھی کیا ہے یا نہیں۔پس اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ جن میں چار باتیں پائی جاتی ہیں وہ ہیں أُولَبِكَ يُسْرِعُونَ فِي الْخَيْرَاتِ جن کے متعلق یہ کہا جا سکتا ہے کہ انہوں نے ہمارے اس حکم کی تعمیل کی کہ وَسَارِعُوا إِلى مَغْفِرَةٍ مِّنْ ربَّكُمْ وَجَنَّةٍ عَرْضُهَا السَّمَوتُ وَالْأَرْضُ - اور یہی وہ لوگ ہیں جن کے اندر مسابقت کی روح پیدا ہو سکتی ہے وہ جو اپنے رب کی خشیت کا احساس نہیں رکھتے وہ جو اپنے رب کی آیات عظیمہ ( قرآن کریم ) پر ایمان نہیں لاتے وہ جن کے دلوں میں شرک کی باریک معصیت پائی جاتی ہے اور وہ جو جب نیکی کرتے ہیں تکبر سے کام لیتے ہیں سمجھتے ہیں کہ ہم نے ایسے کام کئے ہیں کہ اب ہمارا رب مجبور ہے کہ ہماری ان باتوں کو قبول کرے اور ہمیں بہتر جزا دے وہ لوگ مُسَابَقَتْ فِي الْخَيْرَات اور يُسْرِعُونَ فِي الْخَيْراتِ کے مصداق نہیں ہوا کرتے نہ ان میں مُسَابَقَتْ فِي الْخَيْرَات پائی جاتی ہے نہ وہ جلدی جلدی نیکیوں کی طرف متوجہ ہونے والے اور حرکت کرنے والے ہوتے ہیں۔اس واسطے وہ لوگ جو صرف ہمارے دنیوی احسانوں کو دیکھ کر اس نتیجہ پر پہنچتے ہیں کہ انہوں نے سَارِعُوا إِلى مَغْفِرَةٍ مِنْ رَّبِّكُمْ پر عمل کیا اور يُسْرِعُونَ فِي الْخَيْرَاتِ وَهُمْ لَهَا سِبِقُونَ کے گروہ میں شامل ہوئے اور اللہ تعالیٰ کی رضا کو انہوں نے حاصل کیا حالانکہ ان کے اندر یہ چار خوبیاں پائی نہیں جاتیں۔وہ غلطی پر ہیں لا يَشْعُرُونَ مومنوں میں روح مسابقت کا پایا جانا ضروری ہے۔یا فراد میں بھی ہوتی ہے اور جماعتوں میں بھی اور سب سے زیادہ اس کی طرف مرکز کو متوجہ ہونا چاہیے۔خطبات ناصر جلد دوم صفحه ۸۳ تا ۸۵) ایمان کا لفظ جو عام طور پر اور بڑی کثرت کے ساتھ استعمال ہوا ہے اس کے ساتھ آئے تفصیل نہیں ہوتی یہ فرمایا ہے کہ ایمان لاؤ ایمان کا یہ فائدہ ہے ایمان کا یہ ثواب ہے ایمان سے اللہ تعالیٰ خوش ہوتا