انوار القراٰن (جلد ۱)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 487 of 587

انوار القراٰن (جلد ۱) — Page 487

تفسیر حضرت خلیفة المسح الثالث ۴۸۷ سورة ال عمران بھی دوں گا اور پھر اور بھی دوں گا ، فضل دوں گا ، مغفرت خدا کے فضل کو کھینچنے والی ہے، جذب کرنے والی ہے۔سترھویں اس سے ہمیں پتا لگا کہ وَاتَّقُوا النَّارَ الَّتِى أُعِدَّتْ لِلْكَفِرِينَ میں وَاتَّقُوا کے کیا معنی ہیں۔یہ ساری تفصیل جو آئی ہے یہ واتَّقُوا کی وضاحت کر رہی ہے اور اس کو بیان کر رہی ہے۔ان ساری تفاصیل کا خلاصہ یہ بنتا ہے کہ تم اپنے رب کریم کا دامن پکڑو تو کبھی چھوڑو نہ، وفا کا تعلق پیدا کرو تو بے وفائی کبھی نہ کرو، ثبات قدم رکھو، اور کامل تو کل اس پر رکھو، کامل بھروسہ اس پر رکھو اس کو سب طاقتوں کا مالک بھی سمجھو اور انتہائی طور پر پیار کرنے والا ، پوری جزا دینے والا بھی سمجھو۔مغفرت میں ڈھانپ لینے والا اپنے فضل سے، تھوڑے کئے پر ابدی جنت کا مستحق بنا دینے والا یقین کرو۔بڑا ہی فضل کرتا ہے۔وہ مالک ہے، قادر ہے جو چاہے کرے۔فرمایا اور ست مت ہو۔اس دنیا میں جو خدا تعالیٰ کو مانتے ہیں ان کے اوپر تو اس دنیا کے حالات پیدا ہوئے ہیں نا۔جب خدا تعالیٰ سے تعلق قائم ہو گیا ایک دفعہ ست مت ہو۔جس کا مطلب ہے کہ اگر مخالف مقابلے پر اتر آئے تو مقابلہ سے ہمت مت ہارو۔سست مت ہو مقابلہ سے ، ہمت مت ہارو اور غم مت کرو اور کچھا ندیشہ مت کرو۔کچھ اندیشہ دل میں نہ لاؤ۔انجام کا رغلبہ اس دنیا میں بھی تم ہی کو ہو گا مگر شرط یہی ہے کہ جو تمہیں کہا گیا کہ تقویٰ کی راہوں کو اختیار کر کے خدا تعالیٰ کے غضب سے اپنی حفاظت کرو، خدا تعالیٰ کے تقویٰ کی راہوں کو اختیار کرو اور اگر تم ایمان پر قائم رہو گے اور حقیقی اور واقعی مومن رہو گے تو تمہیں کوئی اندیشہ نہیں۔آخر اس کا مطلب یہ ہے کہ اپنے ہر شعبۂ زندگی میں فوقیت تمہیں حاصل رہے گی۔اگر خدا تعالیٰ سے تمہارا تعلق پختہ اور حقیقی اور وفا اور ثبات قدم کا ہے اور اگر تم نے اس دامن کو پیار اور محبت اور ایثار سے پکڑا اور ایک لحظہ کے لئے بھی چھوڑنے کے لئے تیار نہیں تو ہر شعبہ زندگی میں فوقیت تمہیں حاصل رہے گی۔خطبات ناصر جلد هشتم صفحه ۳۲۰ تا ۳۳۲) مال یا اولاد کے ذریعہ سے اللہ تعالیٰ کی طرف سے مدد کا آنا اس بات کی علامت نہیں ہے تسارع لَهُم فِي الْخَيْراتِ کہ ہم ان کو نیکیوں میں جلد جلد بڑھا رہے ہیں اور ان کے اوپر یہ حض انعام کے طور پر فضل ہورہا ہے کہ ان کے مالوں میں بھی برکت ڈالی جارہی ہے اور ان کی اولاد میں بھی برکت ڈالی جا رہی ہے وہ سمجھے نہیں اور اس طرف متوجہ نہیں ہوتے کہ وہ جو يُسَارِعُونَ فِي الْخَيْرُتِ وَهُمْ لَهَا سِبِقُونَ