انوار القراٰن (جلد ۱) — Page 486
تغییر حضرت خلیفة امسح الثالث ۴۸۶ سورة ال عمران طرف رجوع کرے اور اسی سے معافی مانگے اور بخشش طلب کرے اور اس کے پیار کو حاصل کرے۔اس کے دامن کو پکڑے اور کہے کہ ہاتھ تو گندے ہیں اے میرے خدا! پر تیرے دامن کی پاکیزگی کو میرے گندے ہاتھ نا پاک نہیں کر سکتے۔تیری پاکیزگی میرے ہاتھوں کو پاکیزہ بناسکتی ہے۔مجھے پاک بنادے۔سولہویں یہ بتایا کہ یہ متقی وہ لوگ ہیں جو اپنا سب کچھ خدا کے حضور پیش کرنے والے، اپنی تمام طاقتوں کو خدا کے لئے پرورش کرنے والے اور خرچ کرنے والے اور زمین و آسمان کی نعمتوں کو پھر اس کے حضور پیش کر دینے والے اور اس کی تعلیم کے مطابق اور حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے اسوہ کے مطابق اپنی زندگی گزارنے والے ہیں۔ان متقیوں کی جزا ان کے رب کی طرف سے نازل ہونے والی مغفرت ہے اور چار باتیں یہاں بیان ہوئی ہیں۔(۱) ان کے رب کی طرف سے نازل ہونے والی مغفرت ایسے متقیوں کی جزا ہے۔مغفرت کے معنی ہیں گناہ کو ڈھانپ لینا، گناہ کو معاف کر دینا، گناہ کی اصلاح کر دینا، آئندہ کے لئے گناہ کے دروازے کو بند کر دینا اور عذاب سے محفوظ کر لینا ، حفاظت کرنا۔۔۔۔۔۔۔۔تو یہاں اس آیت میں بتایا کہ متقیوں کے لئے یہ مغفرت ہے کہ عذاب سے حفاظت خدا تعالیٰ کہتا ہے نہ تمہیں جنت میں جانے سے پہلے میرا عذاب پہنچے گا نہ جنت میں جانے کے بعد میرا عذاب پہنچے گا۔اس واسطے بہت سارے مذاہب کا بطلان یہاں ہو گیا کیونکہ مغفرت ان کا جواب ہے یعنی خدا تعالیٰ کی قوت مغفرت ، اس کی صفتِ غفور جو ہے وہ ضامن ہے کہ انسان جنت میں جائے تو پھر باہر نہ نکلے۔(ب) اور یہاں یہ بھی بتایا کہ وہ ایسے باغات ہیں جو ہمیشہ سرسبز رہنے والے اور ہمیشہ ہر آن ثمر آور رہنے والے ہیں۔تَجْرِى مِنْ تَحْتِهَا الأَنْهرُ اس کی تھوڑی سی تفسیر ایک وقت میں پہلے بھی بتا چکا ہوں اور باغات بھی ہمیشہ سرسبز اور ثمر آور یعنی اس کی افادیت پوری کی پوری ہمیشہ رہنے والی ہے خدا تعالیٰ کے حکم اور اس کے فضل کے ساتھ۔(ج) اور انسان کی جتنی زندگی بھی ابدی ہے وہ اس میں بستے چلے جائیں گے۔( د ) اور اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ جو متقی میرے احکام پر عمل کر کے میرے بتائے ہوئے طریقے پر اعمال صالحہ بجالائیں گے ان کے میں ( دوسری جگہ آتا ہے کہ میں ان کے اعمال کا پورا پورا بدلہ