انوار القراٰن (جلد ۱) — Page 483
تغییر حضرت خلیفة المسح الثالث ۴۸۳ سورة ال عمران ہیں۔ابھی تک ہمارے علم میں نہیں انسان کو یہ طاقت دی کہ دنیا کی ہر شے سے خدمت لے سکتا ہے، اپنی بھلائی اور خوشحالی کے سامان پیدا کر سکتا ہے اس دنیا کی خوشحالی کے بھی اور مرنے کے بعد کی زندگی اُخروی زندگی کی خوشحالی کے بھی۔کیونکہ فرمایا کہ جو اس دنیا میں اندھا ہوگا وہ اُخروی زندگی میں بھی اندھا ہوگا تو وہاں دیکھنے کی آنکھ یہاں حاصل کرنی پڑتی ہے۔ان سامانوں کو استعمال کر کے قوتوں اور استعدادوں کی صحیح اور کامل نشو و نما کر کے وہاں کے سامانوں سے استفادہ کرنے اور لذت حاصل کرنے کی طاقتیں اور احساسات حاصل کرنے پڑتے ہیں۔پس اللہ تعالیٰ کی رضا کی طلب میں انسان اپنی سب طاقتوں اور استعدادوں کو بروئے کار لاتا اور آسمانوں اور زمین کی ہر شئے سے خدمت لیتا اور اسے خرچ کرتا ہے۔انسان جب اپنی ساری کی ساری طاقتوں اور آسمانوں اور زمین کی ہر شے خرچ کر کے جنت کا سودا کرتا ہے تو جنت کی یہی قیمت ہوئی۔یہ مراد ہے عَرْضُهَا السَّمَوتُ وَالْأَرْضُ سے۔آٹھویں یہ کہ اس جنت کی اتنی بڑی قیمت ہے کہ تمہیں خدا تعالیٰ نے بہت طاقتیں دیں اور زمین و آسمان کو تمہاری خدمت پر بھی لگا دیا تمہیں یہ طاقت دی کہ تم ان سے خدمت لے سکو اور یہ جنت جس کی اتنی بڑی قیمت ہے تقویٰ کی راہوں پر عمل کرنے والوں کے لئے تیار کی گئی ہے۔نویں خلاصہ یہ کہ جس جنت کے حصول پر تمہاری ساری ہی قو تیں، تمہاری ساری ہی استعدادیں، تمہاری صلاحیتیں ایک طرف اور آسمانوں اور زمین سے تعلق رکھنے والی ہر شئے اور ظاہری اور باطنی اور آسمانی اور زمینی ہر نعمت باری دوسری طرف خرچ ہوئی ہے اس عظیم جنت کے پانے کے لئے آگے بڑھو ( سَارِعُوا ) اور یہ ہے وہ عظیم جنت جو متقیوں کے لئے تیار کی گئی ہے اور جسے متقی مغفرت باری وہ کے حصول کے بعد حاصل کریں گے اور پھر متقیوں کی کچھ بنیادی صفات بیان کی گئی ہیں۔دسویں ان کی ایک صفت یہ ہے کہ وہ فراخی اور خوشحالی کی حالت میں خدا کی راہ میں خرچ کرتے ہیں۔جب اللہ تعالی مال دیتا ہے تو یہ منعم علیہ جنات کا علیحدہ رہنے والوں کا عوام سے بے تعلقی اختیار کرنے والوں کا، ان کے مسائل سے بے توجہی برتنے والوں کا گروہ نہیں بن جاتے بلکہ جس وقت فراخی ہوتی ہے اور خوشحالی ان کے نصیب میں ہوتی ہے تو تکبر کی راہوں کو وہ اختیار نہیں کرتے بلکہ تکبر سے بچتے اور مستحقین سے غفلت نہیں برتتے بلکہ جو حق دار ہیں جو مستحق ہیں، جن کے حقوق اللہ تعالیٰ نے قائم کئے ہیں، جن سے اخوت کا رشتہ باندھا گیا ہے ان کے تمام حقوق خدا تعالیٰ کی منشا اور رضا کے