انوار القراٰن (جلد ۱)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 475 of 587

انوار القراٰن (جلد ۱) — Page 475

تفسیر حضرت خلیفة المسح الثالث ۴۷۵ سورة ال عمران ایسی امت ہے جو قرآن کریم میں سے کتاب مبین کو بھی اور کتاب مکنون کو بھی سیکھتی ہے اور محفوظ رکھتی ہے اور اپنے نمونہ اور خدا داد فراست کے ذریعہ یا اگر اللہ تعالیٰ فضل کرے تو اس سے سیکھی ہوئی تعلیم کے ذریعہ دنیا تک قرآن کریم کے نئے سے نئے علوم پہنچاتی رہتی ہے۔پس یہ خَيْرَ أُمَّةٍ اُمت مسلمہ کی ایک بنیادی صفت ہے۔اس سے انکار نہیں کیا جاتا اگر خدا کی نگاہ میں خیر امت بننا ہے تو ایسا بننا پڑے گا۔( خطبات ناصر جلد پنجم صفحه ۳۰۶۳۲۹۵) میں نے اس وقت قرآن کریم کی آیت کے جس ٹکڑے کی تلاوت کی ہے اس کے ایک حصے کی طرف ہی توجہ دلاؤں گا اور وہ ہے كُنْتُمْ خَيْرَ أُمَّةٍ اللہ تعالیٰ نے فرمایا تمہارے لئے ایسے سامان پیدا کئے گئے ہیں کہ تم تمام امتوں اور جماعتوں سے زیادہ برکت والی اُمت اور خیر والی جماعت بن سکتے ہو اور یہ اس لئے کہ قرآن عظیم ایک کامل شریعت کی شکل میں نوع انسانی کے ہاتھ میں دیا گیا ہے۔اس میں اُمت مؤمنہ اور امت مسلمہ کے لئے روحانی اور دوسری رفعتوں کے سامان بھی بہت زیادہ مہیا کئے گئے ہیں۔پس خَيْرَ أُمَّةٍ میں جس حقیقت کی طرف اشارہ کیا گیا ہے وہ ایک بنیادی چیز ہے۔اس میں بتایا گیا ہے کہ تم سے بڑھ کر تم سے بہتر اور تم سے افضل کوئی اور گروہ ہو ہی نہیں سکتا کیونکہ جس قدر رفعتوں تک پہنچنے کے سامان امت مسلمہ کو دئے گئے ہیں اس قدر رفعتوں تک پہنچنے کے سامان پہلی امتوں کو نہیں دئے گئے تھے۔چنانچہ خَيْرَ أُمَّةٍ میں ایک بڑا وسیع مضمون بیان ہوا ہے اور دراصل ساری قرآنی تعلیم ہمیں اسی طرف لا رہی ہے۔تاہم جہاں تک لفظ خیر کا تعلق ہے قرآن کریم میں بعض جگہ اس کے استعمال سے لفظا اور بعض جگہ معناً یہ بتایا گیا ہے کہ خیر امت کی کیا کیا صفات ہونی چاہئیں۔اسی طرح حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشادات میں بھی لفظاً اور معنا ہر دو لحاظ سے خیر امت کی صفات کے متعلق ہمیں بہت کچھ بتایا گیا ہے۔اس وقت میں ”خیر “ کی دو ایسی صفات کی طرف احباب کو توجہ دلانا چاہتا ہوں جن میں خیر کا الفظ معنا بھی استعمال ہوا ہے اور لفظاً بھی۔چنانچہ خیر امت بننے کے لئے ہمیں ایک یہ ہدایت بھی دی گئی ہے کہ ہم اپنی تمام صلاحیتوں کو بروئے کار لا کر اپنے پاؤں پر کھڑے ہونے والے بنیں۔نہ صرف ہم اپنی ضرورتوں کو پورا کرنے