انوار القراٰن (جلد ۱)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 476 of 587

انوار القراٰن (جلد ۱) — Page 476

تغییر حضرت خلیفة المسح الثالث سورة ال عمران والے ہوں بلکہ ہم دنیا جہاں کی ضرورتوں کو پورا کرنے والے بھی ہوں نہ صرف یہ کہ ہم خود دوسروں کے سامنے مدد کے لئے ہاتھ نہ پھیلائیں بلکہ جب ہمارے سامنے دنیا جہاں کے ہاتھ لمبے ہوں اور ہمارے سامنے امداد کے لئے ہاتھ پھیلائے جائیں تو ہم اُن کے ہاتھوں کو ان کی وسعت سے زیادہ بھر دینے والے ہوں۔چنانچہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک حدیث ہے جس کے دو حصے ہیں۔ایک حصے کا تعلق اُمت کے اندر باہمی معاونت کرنے سے ہے اور دوسرے کا تعلق مسلم و غیر مسلم سب کے ساتھ بھلائی کرنے سے ہے۔آپ نے فرمایا: الْيَدُ الْعُلْيَا خَيْرٌ مِنَ الْيَدِ السُّفْلى (مسلم کتاب الصلوۃ) گویا اس میں لفظاً بھی اس حقیقت کی طرف توجہ دلائی گئی ہے جو خیر امت میں پنہاں ہے یعنی امت مسلمہ کا ہاتھ ، مومنوں کے گروہ کا ہاتھ ہمیشہ علیا یعنی بالا رہنا چاہیے۔اُن کا ہاتھ دینے والا ہونا چاہیے سفلی یعنی لینے والا نہیں ہونا چاہیے۔خطبات ناصر جلد پنجم صفحه ۲۸۲، ۲۸۳) ہم جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف منسوب ہونے والے ہیں۔اللہ تعالیٰ نے ہمیں مخاطب کر کے یہ فرمایا ہے كُنتُمْ خَيْرَ أُمَّةٍ أُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ یعنی نوع انسان کے سب افراد کی بھلائی کے لئے ، ان کی خیر خواہی کے لئے اور ان کی خدمت کے لئے تم پیدا کئے گئے ہو۔یہ بات کہ خیر “ کے لفظ کو قرآن کریم کن معنوں میں استعمال کرتا ہے۔خود قرآن کریم ہی میں ہمیں اس کی تفصیل ملتی ہے لیکن اس تفصیل کی طرف تو میں اس وقت توجہ نہیں دلا سکتا کیونکہ میری طبیعت ٹھیک نہیں۔میں مثال کے طور پر ایک دو باتیں بتا دیتا ہوں۔ضرورت مندوں کی ضرورت پوری کرنے کو بھی غیر کہا گیا ہے اور اپنے اعمال کو تقویٰ کی بنیادوں پر کھڑا کرنے کو بھی قرآن کریم نے خیر کہا ہے۔گویا ہر مسلمان کا جو رشتہ دوسرے مسلمان کے ساتھ ہو وہ دل میں اللہ تعالیٰ کی خشیت رکھنے اور اس کے احکام کی بجا آوری میں ہونا چاہیے۔اس ضمن میں اور بہت سی باتیں ہیں تفصیل کی بھی اور اصول کی بھی جنہیں قرآن کریم نے بیان کیا ہے۔بہر حال اُمت مسلمہ کو بنی نوع انسان کی خیر خواہی کے لئے ، ان کی بھلائی کے لئے اور ان کی خدمت کے لئے قائم کیا گیا ہے۔یہ جو بھلائی کرنے کا عمل ہے یہ مختلف شکلوں میں ظاہر ہوتا ہے۔اصولی طور پر خیر پہنچانے کے