انوار القراٰن (جلد ۱)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 474 of 587

انوار القراٰن (جلد ۱) — Page 474

تفسیر حضرت خلیفة المسح الثالث الہام ہوا الْخَيْرُ كُلُّهُ فِي الْقُرْآنِ 66 ۴۷۴ سورة ال عمران ( تذکرہ ایڈیشن چہارم صفحه ۷۸) پس آیت وَ لَتَكُن مِنْكُمْ أُمَّةٌ يَدْعُونَ إِلَى الْخَيْرِ مِينَ إِلَى الْخَيْرِ سے مراد قرآن عظیم ہے یعنی ایسی امت اور جماعت تم میں ہر وقت رہنی چاہیے جو قرآن عظیم پر کامل عمل کرنے والی ہو جیسا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق آیا ہے کہ جب پوچھا گیا کہ آپ کے اخلاق کیسے تھے تو حضرت عائشہ نے فرمایا ” قرآن یعنی قرآن کریم نے جو تعلیم دی جن اصول اور حدود کو قائم کیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں بھی وہی نظر آتا ہے اور ہمیں کہا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنی زندگیوں کے لئے اُسوہ بناؤ۔پس اُمت مسلمہ میں ایک ایسی اُمت اور گروہ بزرگوں کا ہونا چاہیے ( بزرگ عمر کے لحاظ سے نہیں بلکہ اپنی عاجزی کے لحاظ سے اور عاجزانہ راہوں کو اختیار کرنے کے لحاظ سے نیز بزرگ ہستی کے اعلان کے بعد اپنے رب سے بے لوث محبت کرنے کے نتیجہ میں اللہ تعالیٰ کی محبت کو حاصل کرنے کے لحاظ سے ) جو نمایاں طور پر دوسروں کیلئے قابل تقلید مثال اور اپنی استعداد کے معراج پر پہنچنے کے بعد جتنا کسی انسان کیلئے اسوہ کا بنا ممکن ہے مثیل بن جانے والے ہوں۔اصل میں تو "الأسوة “ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔آپ ہی ہمارے لئے ایک مثال ہیں ان معنوں میں کہ ہم وہی رنگ اپنے اوپر چڑھا کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے رنگ میں رنگے جائیں اور اس طرح پر اس نیک مثال کے قائم کرنے کے ساتھ دنیا کو قرآن عظیم کی طرف بلائیں۔۔۔۔۔۔۔۔"خیر" کے متعلق اصل میں میں بتا رہا ہوں کہ خیر امت جو ہمیں کہا گیا تو اس خیر امت کی بہت کی صفات بیان کی گئی ہیں۔بعض جگہ لفظ خیر کو استعمال کر کے، بعض جگہ خیر “ کے معانی کو استعمال کر کے۔دو بنیادی چیزیں ان دو خطبوں میں میں بیان کرنے کی کوشش کر رہا ہوں۔ایک میں نے بیان کی تھی کہ قوی ہونا۔یعنی امت مسلمہ کو اپنے پاؤں پر کھڑے ہونا چاہیے کیونکہ ا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا اسوہ یہ بتاتا ہے۔قرآن کریم کی تعلیم یہ کہتی ہے کہ غیر اللہ کے سامنے ہم نے ہاتھ نہیں پھیلانا اور جب تک امت مسلمہ میں اس کی شان کے مطابق یہ صفت پیدا نہیں ہو جاتی اس وقت تک اسلام کی طرف انسان منسوب تو ہو سکتا ہے لیکن اسلام کی عظمت میں انسان حصہ دار نہیں بن سکتا۔اور دوسرے خیر کا بنیادی اصل جو ہمیں بتایا گیا ہے وہ ہے قرآن کریم کو سیکھنا۔یہ صفت ایسی ہے جو امت مسلمہ کو كُنتُمْ خَيْرَ أُمَّةٍ بناتی ہے۔یعنی خیر امت ہونے کی ایک وجہ یہ ہے کہ یہ ایک