انوار القراٰن (جلد ۱) — Page 473
تغییر حضرت خلیفہ امسح الثالث ۴۷۳ سورة ال عمران ایسا ہونا چاہیے۔جو خدا تعالیٰ کی محبت کو زیادہ جذب کرنے والا اور اس اتحاد اور الفت اور اخوت کو زیادہ مضبوط بنانے والا ہو اور اس حقیقت کے باوجود کہ سب ایک جان ہو گئے یہ بھی ضروری ہے کہ جذبہ مسابقت پایا جائے۔خطبات ناصر جلد چہارم صفحه ۵۶۰،۵۵۹) دو بنیادی صفات جن کا ذکر قرآن وحدیث میں ہے ان میں سے ایک یہ ہے کہ امت مسلمہ اس معنی میں خیر ہے کہ تمام پہلی امتوں کے مقابلے میں اپنی استعداد کے لحاظ سے بھی اور اپنی صلاحیت کی نشوونما کے لحاظ سے بھی اقومی ہے۔زیادہ طاقتور ہے اور القومی “ کا مفہوم دراصل یہ بھی ہے کہ جس اُمت نے اپنی خداداد صلاحیتوں کو اللہ تعالیٰ کی کامل شریعت اور تعلیم کی روشنی میں اس طرح کامل نشو نما دیا ہو اور اپنی قوتوں کا کامل نشو ونما کیا ہو کہ وہ اپنے پاؤں پر کھڑے ہونے کے قابل ہو اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسی معنی میں یہ کہا کہ الیدُ العُلْيَا خَيْرٌ مِّنَ الْيَدِ السُّفْلَى (ترمذى كتاب صفة القيامة ) کہ دینے والا ہاتھ خیر کا ہاتھ ہے اور لینے والا ہاتھ ایسا نہیں اور اس کی تفصیل میں نے جتنا ممکن تھا بتائی تھی۔دوسری صفت جو خَيْر أُمَّةٍ کی بنیادی صفت ہے اور جس کا ذکر قرآن کریم اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشادات میں ہے وہ یہ ہے کہ وَلَتَكُنْ مِنْكُمْ أُمَّةٌ يَدْعُونَ إِلَى الْخَيْرِ کہ ایک جماعت ) ایک گروہ اس امت مسلمہ یعنی خَيْرَ أُمَّةٍ کا ایسا ہونا چاہیے کہ جن کا کام ہی صرف یہ ہو کہ وہ گروہ خیر کی طرف بلانے والا ہو۔خیر کے ایک معنی یہاں ”قرآن“ کے ہیں کیونکہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو ایک حدیث کی روشنی میں جس کا میں ذکر کروں گا ایک الہام اس معنی میں ہوا اور حدیث یہ ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا خَيْرُكُمْ مَنْ تَعَلَّمَ الْقُرْآنَ وَعَلَّمَهُ (بخارى كتاب فصائل القرآن باب خيركم من تعلم القرآن وعلمه ( پس اُمت مسلمہ کا وہ گروہ جس کے متعلق کہا کہ وہ گروہ ایسا ہونا چاہیے وَلَتَكُن مِنْكُمْ أُمَّةً يَدْعُونَ إِلَى الْخَيْرِ تو يَدْعُونَ إِلَى الْخَيْرِ کی بنیادی صفت یہ ہے کہ خَيْرُكُمْ مَنْ تَعَلَّمَ الْقُرْآنَ وَعَلَّبَهُ - قرآن کریم سیکھنا اور سکھانا اور قرآن کریم کی ساری دنیا میں اشاعت کرنا یہ خَيْرَ أُمَّةٍ ست مسلمہ کی ایک دوسری بنیادی صفت بیان کی گئی ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ واسلام کو اسی حدیث اور قرآن کی بعض اور آیات کی تفسیر کے طور پر یہ امت