انوار القراٰن (جلد ۱)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 471 of 587

انوار القراٰن (جلد ۱) — Page 471

تغییر حضرت خلیفة لمسیح الثالثة ۴۷۱ سورة ال عمران اندھی کیوں نہیں؟ ظاہر ہے کہ جس عقل نے ایک اندھا قانون بنا دیا ہو وہ خود بھی اندھی ہے کیونکہ نور سے اندھیرے پیدا نہیں ہوتے جہاں بھی اندھیرا نظر آئے گا اُس کے منبع میں بھی اندھیرے ہی کی تلاش کرنی پڑے گی۔ہماری عقل نور کے دائرہ کے اندر رہتے ہوئے یہ کہتی ہے کہ ظلمات کا سرچشمہ نور نہیں پیدا کرتا ، ظلمت کا سرچشمہ ظلمت ہے۔پس جو قانون عقل سے نکلاوہ اندھا ہے وہ عقل خود بھی اندھی ہے البتہ اس کے وہ پہلو جو خدا تعالیٰ کے نور سے منور ہو چکے ہوں اور اُن میں بیداری پیدا ہو چکی ہو وہ اندھے نہیں۔غرض اللہ تعالیٰ نے وَاعْتَصِمُوا بِحَبْلِ اللهِ جَمِيعًا میں یہ بنیادی اور تاکیدی حکم دیا ہے کہ خدا تعالیٰ کے قرب کی جو راہیں ہیں اور خدا تعالیٰ تک پہنچنے کے جو ذرائع ہیں اور خدا تعالیٰ کی رضا کو حاصل کرنے کے جو د سیلے ہیں اُن کو مضبوطی سے پکڑے رکھو۔اگر مضبوطی سے پکڑے رکھو گے تو پراگندہ نہیں ہوگے اور اگر مضبوطی سے نہیں پکڑو گے تو پراگندہ ہو جاؤ گے تمہارے اندر تفرقہ پیدا ہو جائے گا۔گویا اللہ تعالیٰ نے بنیادی طور پر دو باتیں بتائی ہیں ان میں سے ایک کا تعلق قرآن کریم کی ہدایت سے ہے اور دوسری کا عقل سے۔پھر فرمایا وَ اذْكُرُوا نِعْمَتَ اللهِ عَلَيْكُمْ - خدا تعالیٰ کا تم پر یہ احسان ہے کہ اُس نے تمہیں قرآن کریم کی شکل میں ایک ایسی ہدایت دی جس کے نتیجہ میں تمہارے دلوں میں باہمی محبت اور اخوت پیدا ہوئی اور اس کا تعلق شریعت حقہ کے ساتھ ہے لیکن چونکہ عقل انسانی سے بھی کام لینا ضروری ہے اس لئے فرمایا :- وَلَتَكُن مِنْكُمُ أُمَّةٌ يَدْعُونَ إِلَى الْخَيْرِ محض شریعت جو ہے یا قرآن کریم کتابی شکل میں جزدانوں میں بند کر کے رکھ دیا جائے تو اس کا کوئی فائدہ نہیں۔عقل کے ساتھ قرآن کریم کا سمجھنا اور سیکھنا ضروری ہے۔عقل جب اس نتیجہ پر پہنچتی ہے کہ اللہ تعالیٰ جو ہدایت دیتا ہے اس پر عمل کرنا اور اس کے مطابق اعمالِ صالحہ بجالانا ضروری ہے۔خدا تعالیٰ نے شریعت دے دی لیکن شریعت پر عمل کرنا انسان کا کام ہے اور اللہ تعالیٰ فضل کرتا ہے۔اللہ تعالیٰ کی رحمت دعاؤں کے ذریعہ جذب کی جاتی ہے۔امت محمدیہ کے لئے سب سے زیادہ دعا ئیں تو حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کی ہیں آپ نے کسی قوم کو کسی ملک کو اور کسی زمانہ کو نہیں چھوڑا جس کے لئے دعائیں نہ کی ہوں ہمارے اس زمانہ کو بھی نہیں چھوڑا ہمارا یہ ایمان ہے۔دوسرے لوگ ہمارے ساتھ اتفاق رکھیں یا نہ رکھیں لیکن ہمارا