انوار القراٰن (جلد ۱) — Page 466
تفسیر حضرت خلیفة المسح الثالث ۴۶۶ سورة ال عمران جاتے ہیں۔اور جب ان کو خدا کا پیارل جاتا ہے تو اگر دنیا کی ساری دولتیں اس کے عوض میں قربان ہو جائیں تب بھی وہ نہیں چاہتے کہ وہ پیار ان سے کھو جائے اور خدا ان سے ایک سیکنڈ یا لمحہ کے لئے بھی ناراض ہو۔پھر وَ لَيُبَرِ لَنَّهُمْ مِنْ بَعْدِ خَوْفِهِمْ اَمَنا میں اللہ تعالیٰ نے اس مضمون کی طرف اشارہ کیا ہے جو وَ كُنْتُمُ عَلى شَفَا حُفْرَةٍ مِنَ النَّارِ فَانْقَذَكُمْ مِنْهَا میں بیان ہوا ہے تو جس خوف کا آیت استخلاف میں ذکر ہے وہ وہی خوف ہے جس کو یہاں یوں بیان کیا کہ ایک گڑھا ہے، آگ اس میں بھڑک رہی ہے اور اس کے کنارے پر وہ کھڑے ہیں۔اس سے زیادہ اور خوف کیا ہوسکتا ہے جبکہ وہ آگ خدا تعالیٰ کی لعنت کی آگ ہے، اس کے قہر کی آگ ، اس کی ناراضگی کی آگ ہے۔تو خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ اس وقت قوم پر ایک نہایت ہی خوف کا وقت ہوتا ہے کہ کہیں وہ اس کے گڑھے میں نہ گر جائیں۔تب خدا تعالیٰ اپنی قدرت کا ایک نظارہ دنیا کو دکھاتا ہے۔خدا تعالیٰ کسی کا محتاج نہیں، وہ غنی ہے، دنیا میں سب سے بڑا متقی، دنیا میں سب سے بڑا مطہر، دنیا میں سب سے بڑا عالم، دنیا میں سب سے بڑا عاشق قرآن اور عاشق رسول صلی اللہ علیہ وسلم کہلانے والے کا بھی خدا محتاج نہیں ہے بلکہ یہی شخص خدا کا محتاج ہے۔پس اس وقت اللہ تعالیٰ اپنی قدرت کا نظارہ اس طرح دکھا تا ہے کہ کبھی وہ اپنی قدرت کے اظہار کے لئے اس شخص کو چن لیتا ہے جو قوم کی نگاہ میں بوڑھا ہوتا ہے۔حضرت خلیفہ امسیح الاوّل رضی اللہ عنہ کو بہت دفعہ طعنہ دیا گیا کہ بوڑھا آدمی ہے، سمجھ کوئی نہیں۔خدا تعالیٰ نے فرمایا کہ بوڑھا ہے یا نہیں ہے لیکن ہے میری پناہ میں، میری گود میں، اس واسطے تم اس کے مقابلہ میں ٹھہر نہیں سکتے۔کبھی خدا تعالیٰ اپنی قدرت کا اس طرح مظاہرہ کرتا ہے کہ ایک بچے کو چن لیتا ہے۔دنیا کہتی ہے کہ بچہ ہے، قوم تباہ ہو جائے گی ، نا سمجھ ہے، کم علم ہے، کم تجربہ ہے مگر خدا تعالیٰ کہتا ہے کہ بے شک بچہ ہے مگر میں تو بچہ نہیں ہوں۔میں اپنی قدرت اس کے ذریعہ سے ظاہر کروں گا۔تب وہ قدرت ثانیہ کا مظہر ہو جاتا ہے اور پھر وہی بچہ ان لوگوں کا منہ بند کر دیتا ہے جو اسے بچہ سمجھنے والے اور بچہ کہنے والے ہوتے ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔اللہ تعالیٰ کی طرف سے جو کام خلیفہ وقت کے سپرد کئے جاتے ہیں ان میں سے ایک بڑا اہم کام یہ ہوتا ہے کہ وہ اس بات کی نگرانی کریں کہ قوم اِعْتِصامُ بِحَبْلِ اللهِ “ کے مطابق اپنی زندگی کے دن