انوار القراٰن (جلد ۱) — Page 458
تغییر حضرت خلیفة المسیح الثالثة ۴۵۸ سورة ال عمران اور جو شخص اللہ کی پناہ لے لے تو سمجھو کہ ) اسے سیدھی راہ پر چلا دیا گیا۔اس لئے اے ایماندارو! اللہ کا تقویٰ اس کی تمام شرائط کے ساتھ اختیار کرو اور زندگی کے آخری سانس، موت کی گھڑی تک اللہ تعالیٰ کے کامل فرمانبردار بنے رہو۔اور تم سب کے سب بغیر کسی استثناء کے) اللہ کی رسی کو مضبوطی سے پکڑے رکھو اور پراگندہ اور متفرق مت ہو اور اللہ کا احسان (جو اس نے ) تم پر (کیا) ہے یا درکھو کہ جب تم ایک دوسرے کے دشمن تھے۔اس نے تمہارے دلوں میں الفت پیدا کر دی اور تم اس کے احسان سے بھائی بھائی بن گئے اور تم آگ کے ایک گڑھے کے کنارہ پر تھے مگر اس نے تمہیں اس سے بچا لیا۔اس طرح اللہ تمہارے لئے اپنی آیات (وہدایات) کو بیان کرتا ہے تا کہ تم ( راہ ) ہدایت (اور صراط مستقیم پر چل کر کامیابیوں) کو پالو۔۔۔آگ خواہ کسی قسم کی ہو وہ نیک بندوں کو بظاہر جلانے کے لئے ناسمجھ ، جاہل اور خدا سے دور لوگوں کی طرف سے جلائی گئی ہو لیکن جو محبت کا نور بن گئی یا وہ اللہ تعالیٰ کے غضب اور اس کے قہر کی آگ ہو۔ہر دو صورتوں میں اس سے بچنے کا طریق اللہ تعالی نے اس آیت میں (۱) اعتصام باللہ اور (۲) تقوی اللہ بتایا ہے۔اللہ تعالیٰ نے فرمایا تم اللہ کی حفاظت کو حاصل کرو تو اس آگ سے بچ جاؤ گے خواہ وہ خدا کے غضب کی آگ ہو یا مومنوں کا امتحان لینے کے لئے آگ جلائی گئی ہو۔ہر دو صورتوں میں یہ خدا تعالی کی پناہ ہی ہے جو اس آگ کی تپش اور اس سے مجلس جانے سے محفوظ رکھ سکتی ہے۔حضرت ابراہیم علیہ السلام اپنے زور بازو سے اس آگ سے محفوظ نہیں رہے تھے جو ان کو جلانے کے لئے بھڑکائی گئی تھی اور نہ ہی حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہ اپنی ذاتی قوت اور طاقت یا اپنی دولت اور اقتدار کے نتیجہ میں کفار کی بھڑکائی ہوئی آگ سے محفوظ رہے تھے۔یہ تو خدائے ذو العرش کا فضل تھا جس نے یہ اعلان فرمایا تھا تبَّتْ يَدَآ أَبِي لَهَبٍ و تب (اللهب : ٢) اللہ تعالیٰ نے ہر دو موقعوں پر فرشتوں کو بھیجا چنانچہ حضرت ابراہیم کے لئے وہ آگ ٹھنڈک اور سلامتی کا باعث اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے کامیابی اور ترقی کا ذریعہ بن گئی۔پھر اس نبی کی قوم نے (یونس کی قوم ) جو ساری کی ساری خدا کے غضب سے محفوظ ہوگئی تھی اس نے تمثیلی زبان میں ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ ) اپنے آنسوؤں سے خدا کے پاؤں کو پکڑ لیا تھا۔تب اللہ تعالیٰ نے ان کو قہری عذاب سے بچایا تھا۔