انوار القراٰن (جلد ۱)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 457 of 587

انوار القراٰن (جلد ۱) — Page 457

تغییر حضرت خلیفتہ امسح الثالث ۴۵۷ سورة ال عمران سو ہے وہ عیسائیوں کے ہاتھ میں چلا جائے۔قرآن کریم کے سارے احکام ایسے ہیں جن پر ہمیں عمل کرنا چاہیے۔ان میں سے ایک یہ بھی ہے۔وَاعْتَصِمُوا بِحَبْلِ اللهِ جَمِيعًا وَلَا تَفَرَّقُوا وَاذْكُرُوا نِعْمَتَ اللهِ عَلَيْكُمْ إِذْ كُنْتُمْ أَعْدَاء فَأَلَّفَ بَيْنَ قُلُوبِكُمْ فَاصْبَحْتُم بِنِعْمَتِهِ إِخْوَانًا وَكُنْتُمْ عَلَى شَفَا حُفْرَةٍ مِنَ النَّارِ فَأَنْقَذَكُمْ مِنْهَا كَذلِكَ يُبَيِّنُ اللهُ لَكُمُ التِهِ لَعَلَّكُمْ تَهْتَدُونَ اس حکم کو توڑ دیا۔خدا نے بھائی بھائی بنایا تھا۔خدا نے اس اخوت کو، اس اتحاد روحانی اور جسمانی کو اپنی نعمت قرار دیا تھا اور حکم یہ تھا کہ یہ خدا کی رسی ہے اسے مضبوطی سے پکڑو، گرفت جو ہے وہ ڈھیلی نہ ہو جائے اس پر۔اس حکم کو نہیں مانا اور بھی کئی حکم نہیں مانے ہوں گے لیکن یہ تو نمایاں طور پر تاریخ ہمارے سامنے رکھتی ہے کہ اس حکم کو نہیں مانا اور ایک ایک کر کے علاقے اور صوبے مسلمانوں کے ہاتھوں سے نکلتے رہے اور عیسائیوں کے قبضے میں جاتے رہے حالانکہ خود قرآن کریم میں یہ دعا پڑھتے تھے۔رَبَّنَا لَا تُزِغْ قُلُوبَنَا بَعْدَ إِذْ هَدَيْتَنَا ( ال عمران : ٩) اے خدا ہدایت دینا بھی تیرا کام ہے وہ مل گئی ہمیں۔اے خدا! ہدایت پر قائم رکھنا بھی تیرا کام ہے۔ہم عاجزانہ تیرے حضور جھکتے اور دعا کرتے ہیں کہ ہدایت دینے کے بعد ہمارے دلوں میں کوئی بھی نہ پیدا ہو جائے۔ہمارے دلوں کی حفاظت کر شیطان کے حملوں سے شیطان کا وار ہم پر کامیاب نہ ہو۔اس دعا کو جماعت احمد یہ بڑی کثرت سے پڑھے۔ہمارا یہ فرض ہے کیونکہ جو کام اس وقت ہونے والا ہے اس دنیا میں اور جو جماعت احمدیہ کے سپرد کیا گیا ہے وہ ایک نسل کا کام نہیں۔ایک صدی تو قریباً گزرگئی چند سال باقی رہ گئے ، کئی نسلیں آئیں اور گئیں۔اللہ تعالیٰ نے توفیق دی، انہیں ثبات قدم عطا کیا ، ہدایت پر قائم رہے، قربانیاں دیتے رہے، قربانیوں میں آگے بڑھتے رہے، اللہ تعالیٰ کے فضلوں کو پہلے سے زیادہ حاصل کرتے رہے۔اب ہم ہیں، ہمیں ہر وقت فکر رہنی چاہیے، ایک تو اپنے متعلق کہ خدا تعالیٰ ہمیں ٹھوکر سے بچائے۔ہمیں دوسروں کے لئے فتنہ بھی نہ بنائے۔اس سے بھی ہمیں بچائے۔ہماری نسلوں کو بھی اس ارفع اور اعلیٰ مقام قرب پر قائم رکھے کہ جس کے نتیجے میں اللہ تعالیٰ کی دینی اور دنیوی نعماء انسان کو ملتی ہیں۔رَبَّنَا لَا تُزِغْ قُلُوبَنَا بَعْدَ إِذْ هَدَيْتَنَا وَهَبْ لَنَا مِنْ لَدُنْكَ رَحْمَةً إنَّكَ أَنْتَ الْوَهَّابُ ( ال عمران : ۹) کثرت سے پڑھیں اور چوکس اور بیدار ہو کر اپنی زندگیاں گزاریں اور کم عمر نسل کی تربیت چھوٹی عمر سے ہی شروع کر دیں۔(خطبات ناصر جلد ہشتم صفحہ ۷۳۹ تا ۷۴۱) 9: