انوار القراٰن (جلد ۱)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 456 of 587

انوار القراٰن (جلد ۱) — Page 456

۴۵۶ سورة ال عمران تفسیر حضرت خلیفہ المسیح الثالث کی عادات میں، نہ رہن سہن کے طریقے میں۔انہوں نے کہا ہم ان غاروں میں رہیں گے مسلم حکومت نے کہا ٹھیک ہے وہیں رہو، تم انسان ہو تمہاری بہر حال عزت کی جائے گی تمہارا احترام کیا جائے گا اور پہلے بھی عیسائی حکومت کے ماتحت اور بعد میں بھی عیسائی حکومت کے ماتحت ان لوگوں کو وہ عزت نہیں ملی جو خدا چاہتا ہے کہ انسان، انسان سے سلوک کرے اور جو قرآن کریم میں بیان ہوا کہ آپس میں باہمی پیار اور محبت کے ساتھ اس طرح رہنا چاہیے اس کے مطابق مسلمانوں نے زندگی گزاری اور اس کے مطابق انہوں نے وہاں حکومت بھی کی اور تھوڑے ہوتے ہوئے کثرت پر بھاری ہوئے خدا تعالیٰ کے فضلوں اور اس کی رحمتوں سے کیونکہ ان کے دل خدا تعالیٰ کی بھیجی ہوئی ہدایت جسے حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم لے کر آئے پر تھے، اور فدائی تھے خدا اور حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے۔ان کی ذہنیت یہ تھی کہ اِفْعَلْ مَا تُؤْمَرُ (الصفت: ۱۰۳) حضرت ابراہیم علیہ السلام نے جب اپنے صاحبزادے سے یہ پوچھا کہ یہ میں نے خواب دیکھی ہے تو بتاؤ تم کیا کہتے ہو؟ بڑا عجیب جواب ہے جو انہوں نے دیا یہ نہیں کہا کہ اگر آپ نے خدا تعالیٰ کا منشا یہ معلوم کیا اپنی رویا میں کہ مجھے ذبح کر دیں تو ذبح کر دیں۔حضرت اسماعیل نے یہ جواب دیا کہ افعَلُ مَا تُؤْمَرُ جو بھی خدا تعالیٰ کا حکم ہے وہ کرو۔افعَل مَا تُؤْمَرُ انسان کی نیت بتاتا ہے، انسان کا تقویٰ بتاتا ہے، خدا تعالی کے لئے انسان کی محبت بتاتا ہے۔حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے حاصل کردہ حسن اور نور بتاتا ہے۔افْعَلُ مَا تُؤْمَرُ وہ ہے جو اسلام ایک مسلمان میں پیدا کرنا چاہتا ہے۔پھر کچھ عرصے کے بعد بگاڑ پیدا ہوا اور وہ لوگ ہدایت پر اس طرح قائم نہ رہے جس طرح اللہ تعالیٰ چاہتا تھا کہ وہ ہدایت پر قائم رہیں۔جب تھوڑے تھے اکثریت پر غالب آئے۔جب بہت ہو گئے تو مقابلہ نہ کر سکے اور ایک شہر کے بعد دوسرا شہر عیسائیوں نے فتح کرنا شروع کیا اور اتنا دکھ ہوتا ہے پڑھ کے ان کی تاریخ کو کہ جب عیسائی حملہ کرتے تھے کسی مسلمان شہر پر تو کسی علاقے کے مسلمان نواب صاحب عیسائیوں کے ساتھ مل کے اس شہر کو فتح کرنے میں ان کے مد ہوتے تھے اور وہ عیسائیوں کے ہاتھ میں چلا جاتا تھا۔قرطبہ بھی جو آج سے سات سو چوالیس سال پہلے فتح کیا گیا اور عیسائیوں کے ہاتھ میں چلا گیا۔اس وقت بھی ایک بہت بڑے علاقے کے مسلم حاکم عیسائیوں سے ملے ہوئے تھے اور مسلمانوں کے خلاف انہوں نے قرطبہ کے اوپر چڑھائی کی اس لئے تا کہ قرطبہ جو مسلمانوں کا علاقہ