انوار القراٰن (جلد ۱) — Page 450
تفسیر حضرت خلیفہ المسیح الثالث ۴۵۰ سورة ال عمران : نے (جنہوں نے اپنی ساری عمریں اسلام کو مٹانے کے لئے صرف کر دی تھیں ) ہتھیار ڈال دیئے اور فرشتوں نے جن کا آسمان سے نزول ہوا ان کے دلوں میں اس قدر خوف پیدا کر دیا کہ لڑائی کی ان کو ہمت ہی نہ پڑی۔لیکن اس کے دوسرے معنی یہ بھی ہیں کہ تم ہی وہ امت ہو جو اس وعدہ کو پورا کر نیوالی ہو جو حضرت ابراہیم علیہ السلام سے ان الفاظ میں کیا گیا تھا کہ وَمَنْ دَخَلَهُ كَانَ آمِناً جو اس میں داخل ہو گا وہ امن میں آجائے گا تمہارے ذریعہ سے وہ وعدہ پورا ہوا میں اس کی وضاحت کر چکا ہوں کہ یہ تمام وعدے وہ ہیں جن کا تعلق تمام بنی نوع انسان سے ہے۔ہر قوم اور ہر زمانہ کے ساتھ کسی خاص قوم یا کسی خاص زمانہ کے ساتھ یہ مخصوص نہیں ہیں تو مَنْ دَخَلَهُ كَانَ آمِنًا کے معنی یہ ہوئے کہ خواہ دنیا کی کسی قوم سے ہی تعلق نہ رکھتا ہو یا کسی زمانہ میں ہی رہنے والا کیوں نہ ہو جو شخص بھی مناسک حج خلوص نیت سے ادا کرے گا وہ نار جہنم سے محفوظ ہو جائے گا۔چنانچہ حدیث میں ابو ہریرہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرما یا مَنْ حَجَّ فَلَمْ يَرْفَتْ وَلَمْ يَفْسُقُ غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِن ذنبه ( ترمذی کتاب الحج باب ماجاء فى ثواب الحج والعمرة ) ( یا درکھیں کہ توفیق اور تزفیت اور پر فٹ يَفْسُقُ اور يُفسیقی دونوں طرح عربی زبان میں یہ الفاظ بولے جاتے ہیں ) کہ جو شخص گندی اور مخش باتوں سے پر ہیز کرے یعنی جو شخص حج کرے اور مناسک حج ادا کرتے ہوئے فحش کلامی سے بچتا رہے جس کا مطلب یہ ہے کہ اس کا اندرونہ اس قدر پاکیزہ ہو کہ مخش بات اس کی زبان پر آہی نہ سکتی ہو۔یہ مطلب نہیں کہ وہ باقی گیارہ ماہ کچھ دن تو ہر قسم کی فحش کلامی کرتار ہے صرف ان دنوں رفت سے بچے بلکہ مطلب یہ ہے کہ جس کا اندرونہ اتنا پاک ہو چکا ہو اور گندگی اس کے سینہ سے اتنی دور ہو چکی ہو کہ مخش بات گندی بات اس کے منہ پر آہی نہ سکے اور جو حق اور صلاح کے طریق سے خروج نہ کرے یعنی شرعی حدود سے باہر نہ ہو ان کی پابندی کرنے والا ہو اور اطاعت کا حق ادا کرنے والا ہو۔تو جو شخص اس خالص نیت کے ساتھ اور ان خالص اعمال کے ساتھ اور ان پاکیزہ آداب کے ساتھ حج بیت اللہ کرتا ہے اللہ تعالیٰ کا اس سے وعدہ ہے کہ اس کے پچھلے تمام گناہ معاف کر دیئے جائیں گے اور جس کے تمام پچھلے گناہ معاف ہو گئے وہ یقینا نار جہنم سے بچا لیا گیا۔ایک اور طرح بھی انسان اس دنیا میں بھی اور اس دنیا میں بھی نار جہنم سے بچ جاتا ہے اور وہ