انوار القراٰن (جلد ۱)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 449 of 587

انوار القراٰن (جلد ۱) — Page 449

تغییر حضرت خلیفة لمسیح الثالثة ۴۴۹ سورة ال عمران پیدا ہوں گے جو فنا کے اس مقام کو حاصل کرنے والے ہوں گے۔۔۔۔۔۔۔۔۔یہ وہ مقامِ ابراہیم ہے جس کا وعدہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کو دیا گیا۔اس کی بشارت اپنے رب کی طرف سے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پائی اور خدا تعالیٰ جو سچے وعدوں والا ہے اس نے اپنے اس وعدے کو سچا ثابت کر دکھایا اور امت مسلمہ میں لاکھوں وجود ایسے پیدا کئے جو مقام ابراہیم تک پہنچنے والے تھے۔چھٹا وعدہ جو حضرت ابراہیم علیہ السلام سے کیا گیا تھا وہ ان آیات کے اس ٹکڑے میں بیان ہوا ه وَمَنْ دَخَلَهُ كَانَ آمِنًا، میں نے بتایا تھا کہ اس سے مراد یہ ہے کہ جو بیت اللہ میں داخل ہوگا یعنی ان عبادات کو بجالائے گا جن کا تعلق خدا تعالیٰ کے اس گھر سے ہے۔دنیا اور آخرت کے جہنم سے خدا کی پناہ میں آ جائے گا اور اس کے تمام پچھلے گناہ معاف کر دئے جائیں گے اور نار جہنم سے وہ محفوظ ہو جائے گا وَمَنْ دَخَلَه كَانَ آمِنًا۔جو اس گھر میں داخل ہو گا اس آگ سے محفوظ ہو جائے گا ( جو خدا تعالیٰ نے منکروں کے لئے بھڑکائی ہے ) چنانچہ اللہ تعالیٰ سورۃ نمل میں فرماتا ہے وَهُمْ مِنْ فَزَعَ يَوْمَيذٍ أمِنُونَ (النحل : ٩٠) یعنی اسلامی ہدایت کے مطابق اعمال صالحہ بجالانے والوں کو اللہ تعالیٰ بہتر اور احسن بدلہ دے گا اور نفخ صور کی گھڑی میں ایسے لوگ خوف جہنم سے محفوظ رہیں گے۔اس وقت اللہ تعالیٰ ان کو یہ بشارت دے گا کہ تمہیں نار جہنم کی طرف نہیں لے جایا جائے گا بلکہ جنت کی طرف لے جایا جائے گا اس واسطے کسی قسم کا خوف نہ کرو۔اسی طرح اللہ تعالیٰ نے دوسری جگہ فرمایا۔اِنَّ الْمُتَّقِينَ فِي جَنْتِ وَعُيُونِ ادْخُلُوهَا بِسَلِمٍ أمنين ( الحجر :۴۷۰۴۶) متقی لوگ یقیناً باغوں اور چشموں والے مقام میں داخل ہوں گے انہیں کہا جائے گا کہ تم سلامتی کے ساتھ بے خوف و خطران میں داخل ہو جاؤ تو یہ امن ہے جو قرآن کریم کے ذریعہ سے اس کے کامل متبعین کو ملتا ہے۔فرمایا تھا " مَنْ دَخَلَهُ كَانَ أَمِنَّا ، عین یہی الفاظ اللہ تعالیٰ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو فرمائے اور فرمایا کہ ہم نے تم سے وعدہ کیا تھا۔لَتَدْخُلُنَ الْمَسْجِدَ الْحَرَامَ إِنْ شَاءَ اللهُ امِنينَ (الفتح : ۲۸ ) کہ تم مسجد حرام میں امن کے ساتھ داخل ہو گئے اور وہ وعدہ : پورا ہوا۔66 ایک تو اس کی ظاہری تفسیر ہے کہ اللہ تعالیٰ نے فتح مکہ کے سامان پیدا کئے اور بغیر جنگ کے کفار مکہ