انوار القراٰن (جلد ۱)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 446 of 587

انوار القراٰن (جلد ۱) — Page 446

تغییر حضرت خلیفة المسیح الثالثة ۴۴۶ سورة ال عمران جو بھی قرآن کریم کی اتباع کرتا اور اس ہدایت کے پیچھے چلتا ہے جسے خدا تعالیٰ نے هُدًى لِلْعَلَمِينَ قرار دیا ہے وہ خدا تعالیٰ کی انتہائی برکتوں سے حصہ لیتا اور اس کا انجام بخیر ہوتا ہے اور انسانی نفس کو کمال تک پہنچانے کے لئے اور اس کے تزکیہ کو پورا کرنے کے لئے جس چیز کی بھی ضرورت ہے وہ قرآن کریم میں پائی جاتی ہے کیونکہ ان لوگوں نے قرآن کریم پر عمل کیا اور خدا تعالی کی نگاہ میں ان کا وجود مبارک اور کامل وجود بنا اور اللہ تعالیٰ کی فعلی شہادت اس بات پر گواہ ہے کہ فی الواقع یہ لوگ خدا تعالیٰ کے مقرب بندے ہیں اور روحانی میدانوں میں ہر لحظہ اور ہر آن ان کا قدم آگے ہی آگے کی طرف چلا جا رہا ہے۔اللہ تعالیٰ ہمیں بھی اس گروہ میں شامل کرے۔(خطبات ناصر جلد اوّل صفحه ۶۶۴ تا ۶۷۵) چوتھی غرض تعمیر کعبہ سے یہ تھی یا یوں بھی کہا جا سکتا ہے کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کے ساتھ اللہ تعالیٰ کا چوتھا وعدہ یہ تھا کہ فِیهِ ایت بَيِّنت میں نے بتایا تھا کہ اس فقرہ میں حضرت ابراہیم علیہ السلام سے اللہ تعالیٰ نے یہ وعدہ فرمایا تھا کہ خدا کا یہ گھر ایسی آیات و بینات اور ایسے نشانات اور تائیدات سماوی کا منبع بنے گا جو ہمیشہ کے لئے زندہ رہیں گی یعنی اس تعمیر سے ایسی امت مسلمہ کا قیام مدنظر تھا جس کے ذریعہ اللہ تعالیٰ کے نشان قیامت تک دنیا پر ظاہر ہوتے رہیں۔قرآن کریم نے یہ دعویٰ کیا ہے کہ صرف اسی کی اتباع کے نتیجہ میں قیامت تک کے لئے یہ دروازہ کھولا گیا ہے اور یہ کہ ہر قوم اور ہر زمانہ میں ایسے لوگ پیدا ہوتے رہیں گے جو اس کی برکتوں سے حصہ لیں گے اور اللہ تعالیٰ ان کے ذریعہ اپنے نشانوں کو ظاہر کرتا رہے گا۔آیات بینات پہلے انبیاء کو بھی دیئے گئے تھے لیکن وہ ایسی آیات بینات تھیں جن کا تعلق صرف ان کی قوم اور ان کے زمانہ سے تھا۔تمام بنی نوع انسان سے ان کا تعلق نہ تھا اور ہر زمانہ سے ان کا کوئی واسطہ نہ تھا لیکن ان آیات میں تو مضمون ہی یہ بیان ہوا ہے کہ یہ وہ مقاصد ہیں جن کا تعلق تمام بنی نوع انسان کے ساتھ ہے ہر قوم اور ہر زمانہ کے ساتھ ہے اسی لئے اس مضمون کی ابتدا ہی اِنَّ أَوَّلَ بَيْتٍ وضِعَ لِلنَّاسِ (ال عمران: ۹۷) میں للناس کے ساتھ کی گئی ہے تو اگر چہ آیات بینات پہلی امتوں کو بھی دیئے گئے لیکن ایسی آیات بینات جن کا تعلق ہر قوم اور ہر زمانہ سے تھاوہ صرف اور صرف محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیئے گئے۔اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتا ہے بَلْ هُوَ ايتٌ بَيِّنت في