انوار القراٰن (جلد ۱)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 442 of 587

انوار القراٰن (جلد ۱) — Page 442

تغییر حضرت خلیفة امسح الثالث ۴۴۲ سورة ال عمران محض وہ کافی نہیں بلکہ ان کے لئے بھی آسمان سے کسی ہدایت کی ضرورت ہے۔تو یہ ہدایت قدر مشترک ہے تمام انسانوں میں، اس کا کسی مذہب کے ساتھ تعلق نہیں ہے۔اس قدر مشترک کی راہنمائی بھی قرآن کہتا ہے کہ میں کرتا ہوں اور عقل تو خود اندھی ہے اگر نیر الہام اس کے ساتھ نہ ہو اور اللہ تعالیٰ نے انسان کو یہ بتانے کے لئے کہ جسمانی قابلیتیں اور روحانی استعدادیں کافی نہیں ہوتیں جب تک اللہ تعالیٰ کا فضل شامل حال ہو کر آسمان سے اس کی ہدایت کا سامان پیدا نہ کیا جائے۔۔۔۔۔۔۔قرآن یہ کہتا ہے کہ علاوہ بعض دوسری ہدایتوں کے جو آسمان سے نازل ہوتی ہیں ہم عقل کی بھی راہنمائی کرتے ہیں۔اس سلسلہ میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اس مضمون کو بڑے لطیف پیرا یہ میں بیان کیا ہے کہ وحی والہام کے ذریعہ انسانی عقلوں کو اللہ تعالی تیز کرتا ہے اور پھر ذہن رسا سے جو علوم پرورش پاتے ہیں قرآن کریم ان سے خادموں کی طرح خدمت لیتا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں کہ دو خدا تعالی کی ہستی اور خالقیت اور اس کی توحید اور قدرت اور رحم اور قیومی اور مجازات وغیرہ صفات کی شناخت کے لئے جہاں تک علوم عقلیہ کا تعلق ہے استدلالی طریق کو کامل طور پر استعمال کیا ہے اور اس استدلال کے ضمن میں۔۔۔تمام علوم کو نہایت لطیف و موزوں طور پر بیان کیا ہے۔۔۔اور۔۔۔علوم مذکورہ سے ایک ایسی شائستہ خدمت لی ہے جو کبھی کسی انسان نے سرمه چشم آرید، روحانی خزائن جلد ۲ صفحہ ۷۲، ۷۳ حاشیہ) اور یہ قرآن کریم کا کمال ہے کہ باقی ادیان تو رائج الوقت علوم کے سامنے دب سکتے ہیں لیکن اسلام ہی ایک ایسا دین ہے اور قرآن ہی ایک ایسی کتاب ہے جو کسی عقلی علم کے سامنے دیتی نہیں بلکہ اس کو خادم سمجھتی اور اس سے خدمت لیتی ہے۔نہیں لی۔ہدایت کے دوسرے معنی شریعت کے ہیں جو اللہ تعالی کی طرف سے نازل ہو۔تو هُدًى لِلعلمین کے معنی یہ ہوں گے کہ وہ شریعت جو عالمین کے لئے، تمام جہانوں اور تمام زمانوں کے لئے ہے اور صرف قرآن کریم ہی ھدی للعلمین ہے اسی لئے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دنیا کو مخاطب کر کے فرما یا اِنّى رَسُولُ اللهِ إِلَيْكُمْ جَمِيعًا - (الاعراف: ۱۵۹ قرآن کریم بھرا پڑا ہے اس مضمون سے کہ وہ تمام جہانوں اور تمام زمانوں کے لئے ہے۔یہ صرف ایک دعویٰ نہیں بلکہ