انوار القراٰن (جلد ۱)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 441 of 587

انوار القراٰن (جلد ۱) — Page 441

تغییر حضرت خلیفة لمسیح الثالث ۴۴۱ سورة ال عمران کسی کا بھی یہ دعوی نہ تھا کہ وہ تمام اقوام عالم اور ہر زمانہ کے لئے ہیں لِلعالمین ہونے کا دعویٰ قرآن سے پہلے کسی شریعت نے نہیں کیا۔صرف قرآن کریم نے ہی یہ دعوی کیا ہے اور صرف محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہی دنیا کو پکار کر کہا کہ میں تم سب کی طرف خدا کا رسول ہوں۔قرآن کریم میں بہت سی آیات اس مضمون کی پائی جاتی ہیں۔میں نمونہ کے طور پر چند ایک یہاں بیان کروں گا۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : وَ نَزَلْنَا عَلَيْكَ الْكِتَبَ تِبْيَانًا لِكُلِّ شَيْءٍ - (النحل : ۹۰) یعنی ہم نے تیرے پر وہ کتاب اتاری ہے جس میں ہر ایک چیز اور ہر ایک تعلیم کو بیان کر دیا گیا ہے، جو ہم بنی نوع انسان کی روحانی ترقیات کے لئے بیان کرنا چاہتے تھے یعنی ہمارے علم کامل میں جو علیمیں بنی نوع انسان کی اعلیٰ روحانی ترقیات کے لئے ضروری تھیں وہ ہم نے اس کتاب میں بیان کر دی ہیں اور دوسری جگہ فرما يا مَا فَرَّطْنَا فِي الكِتب مِنْ شَيْءٍ (الانعام : ۳۹) بنی نوع انسان کی کامل استعدادوں کی صحیح نشو نما کے لئے جس چیز کی بھی ضرورت تھی وہ اس میں بیان ہو گئی ہے اور کوئی تعلیم اس کے باہر نہیں رہی اسی لئے اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں یہ دعوی کیا الْيَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمْ وَأَتْمَمْتُ عَلَيْكُمْ نِعْمَتِي وَرَضِيتُ لَكُمُ الْإِسْلَامَ دِینا۔(المائدہ: ۴) یعنی قرآن کریم کے ذریعہ دین اپنے کمال اور روحانی نعمتیں اپنے انتہا کو پہنچ گئی ہیں۔اب صرف اسلام کے ذریعہ خدا تعالیٰ کی رضا کو حاصل کیا جاسکتا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام اس آیت کی تفسیر میں فرماتے ہیں کہ اس آیت میں صریح یہ بیان ہے کہ قرآن شریف نے ہی کامل تعلیم عطا کی ہے اور قرآن شریف کا ہی ایسا زمانہ تھا جس میں کامل تعلیم عطا کی جاتی۔پس یہ دعوی کامل تعلیم کا جو قرآن شریف نے کیا۔یہ اُسی کا حق تھا۔اس کے سوا کسی آسمانی کتاب نے ایسا دعویٰ نہیں کیا۔جیسا کہ دیکھنے والوں پر ظاہر ہے کہ تو رات اور انجیل دونوں اس دعویٰ سے دستبردار دیباچه بر این احمدیہ حصہ پنجم روحانی خزائن جلد ۲۱ صفحه ۴)۔۔۔۔میں نے بتایا تھا کہ ہدایت کے چار معنی لغت میں بیان ہوئے ہیں۔پہلے معنی کے متعلق جو خطبہ چھپا ہے اس میں کچھ تھوڑا سا ابہام ہے۔اس کی میں وضاحت کر دیتا ہوں۔ہدایت کے پہلے معنی یہ ہیں کہ عقل اور فراست کو جس راہنمائی کی ضرورت ہے اسے بھی ہدایت کہتے ہیں۔یعنی عقل اور فراست میں اور علوم کے حصول میں اور اس کی تحقیق میں بھی انسان میں جو طاقتیں ودیعت کی گئی ہیں ہیں۔