انوار القراٰن (جلد ۱)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 440 of 587

انوار القراٰن (جلد ۱) — Page 440

تغییر حضرت خلیفة لمسیح الثالثة ۴۴۰ سورة ال عمران وو آسکتا اور دوسرا نتیجہ اس کا یہ نکلے گا کہ تُرحمون اللہ تعالیٰ کے رحم کے تم مستحق ٹھہرو گے اور اس کے انعامات بے پایاں کے نتیجہ میں جسمانی اور روحانی آسودگی حاصل ہو گی۔اسی طرح دوسری جگہ (سورۃ الانعام میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا: وهذا كتب انزلنهُ مُبْرَكَ مُّصَدِقَ الَّذِى بَيْنَ يَدَيْهِ وَلِتُنْذِرَ أَم القرى وَمَنْ حَوْلَهَا - (الانعام : (۹۳) یعنی یہ قرآن عظیم الشان کتاب ہے جسے ہم نے اتارا ہے پہلی تمام امتوں کی ہر قسم کی برکات کی جامع ہے۔(مبروك ) اور ان بشارتوں اور پیشگوئیوں کے مطابق نازل ہوئی ہے، جو اس کتاب کے متعلق پہلی کتاب میں پائی جاتی ہیں۔نیز ان تمام شرائع سابقہ کی بنیادی صداقتوں اور ہدایتوں پر مہر تصدیق ثبت کرنے والی ہے ( اس کے اندر ان کو جمع کر دیا گیا ہے ) اسی طرح ابراہیمی قربانیوں اور دعاؤں کا یہ ثمرہ ہے اس لئے تم اہل مکہ اور اہل عرب کو خبر دار کرو کہ جس اکمل شریعت کا تم سے وعدہ کیا گیا تھا وہ پورا ہوا اور موجودہ شریعت تم پر نازل ہوگئی۔اگر تم اس سے منہ پھیرو گے تو جیسا کہ ابراہیم علیہ السلام کے ذریعہ تمہیں پہلے سے خبردار کیا گیا ہے اللہ تعالیٰ کے غضب کے تم مورد بنو گے اور عَذَابُ النّارِ کی طرف گھسیٹ کر تمہیں لے جایا جائے گا۔اس آیت میں بڑی وضاحت سے یہ مضمون پایا جاتا ہے کہ منوں کا تعلق نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات اور ابراہیم کی پیشگوئیوں کے ساتھ ہے لِتُنذِرَ اُمَّ القُرى وَمَنْ حَوْلَهَا میں یہ مضمون بڑی وضاحت سے بیان ہوا ہے۔تو ہر دو معنی کے لحاظ سے یہ خانہ خدا مبرك اس وقت بنا جس وقت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم مبعوث ہوئے دنیا کے دل میں مکہ کی محبت پیدا کی گئی اور دنیا کی ضرورتوں کو پورا کرنے کے لئے مکہ میں شریعت اسلامی کا نزول ہوا۔تیسری غرض تعمیر کعبہ کی ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے یہ بیان فرمائی کہ هُدى العلمين تمام جہانوں کے لئے اسے ہدایت کا مرکز بنایا جائے گا۔یعنی یہاں ایک ایسی شریعت نازل ہوگی جس کا تعلق کسی ایک قوم یا کسی ایک زمانہ کے ساتھ نہ ہوگا بلکہ عالمین کے ساتھ ہوگا۔تمام اقوام کے ساتھ ہوگا۔تمام اکناف عالم کے ساتھ ہو گا تمام جہانوں کے ساتھ ہوگا اور تمام زمانوں کے ساتھ ہوگا۔اس سلسلہ میں پہلی بات یا درکھنے کے قابل یہ ہے کہ پہلی کتب سماوی کے نزول کے وقت انسان کی کمزور استعداد میں اس لائق نہ تھیں کہ وہ کامل اور مکمل شریعت کی متحمل ہوسکتیں۔اس لئے ان میں سے