انوار القراٰن (جلد ۱) — Page 432
تفسیر حضرت خلیفة المسح الثالث ۴۳۲ سورة ال عمران فضل کو جذب نہ کریں اس لئے انتہائی قربانیاں دینے کے بعد بھی وہ اپنی قربانیوں کو کچھ چیز نہ سمجھیں گے اور ہر وقت اپنے رب سے ترساں اور لرزاں رہیں گے اور انتہائی قربانیوں کے باوجود ان کی دعا یہ ہوگی کہ جو کچھ ہم تیرے حضور پیش کر رہے ہیں وہ ایک حقیر سا تحفہ ہے۔تیری شان تو بہت بلند ہے اور ہم سمجھتے ہیں کہ تیرے حضور ہمارا یہ تحفہ قبول ہونے کے لائق نہیں لیکن تو بڑا رحم کرنے والا رب ہے ہمارے اس حقیر تحفہ کو قبول فرما اور ہماری غفلتوں اور ہماری حقیر مساعی کو چشم مغفرت سے دیکھ اور رحمت کے سامان پیدا کرتا کہ ہماری مساعی اور کوششیں تیرے حضور قبول ہو جائیں۔غرض اس قسم کی قوم پیدا کرنے کے لئے اللہ تعالی نے خانہ کعبہ کی بنیاد رکھی۔اٹھارہواں مقصد اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ خانہ کعبہ کی از سر نو تعمیر سے اٹھارہواں مقصد یہ ہے کہ دنیا یہ جانے کہ جو لوگ خدا تعالیٰ کے حضور اس رنگ میں دعائیں کرتے ہیں وہی ہیں جو اپنے رب کی صفت سمیع کا نظارہ دیکھتے ہیں اور پھر دنیا دیکھتی ہے کہ ہمارا رب جو ہے وہ سننے والا ہے۔وہ ہماری دعاؤں کو سنتا ہے اور فرماتا ہے کہ میں نے تمہاری دعاؤں کو سنا۔پس خانہ کعبہ کے قیام کے نتیجہ میں خدائے سمیع کی معرفت دنیا حاصل کرے گی۔انیسواں مقصد یہ ہے کہ دنیا اس کے ذریعہ سے خدائے علیم کی معرفت حاصل کرے گی یہ نہیں ہو گا کہ بندہ نے اپنے علم ناقص کے نتیجہ میں جو دعا کی اسے اللہ تعالیٰ نے اسی رنگ میں قبول کر لیا بلکہ بندہ دعا کرے گا اور دعا کو انتہا تک پہنچائے گا تو اس کا رب اس کی دعا کو سنے گا اور قبول کرے گا مگر قبول کرے گا اپنے علم غیب کے تقاضا کو پورا کرتے ہوئے یعنی جس رنگ میں وہ دعائیں قبول ہونی چاہئیں اس رنگ میں۔بعض دعاؤں کا رد ہو جانا یا بعض دعاؤں کا اس شکل میں پورا نہ ہونا جس رنگ میں کہ وہ کی گئی ہیں یہ ثابت نہیں کرے گا کہ خدا سمیع نہیں ہے یا قادر نہیں ہے بلکہ وہ یہ ثابت کرے گا کہ خدا تعالیٰ ہی کی ذات علام الغیوب ہے۔تو خانہ کعبہ کی بنیاد اس لئے رکھی گئی کہ خدا تعالیٰ کے بندے خدائے علیم سے متعارف ہو جائیں اور اس کو جانے لگیں اور پہچانے لگیں۔بیسویں غرض یہاں یہ بیان کی گئی ہے کہ وَمِنْ ذُرِّيَّتِنَا أُمَّةً مُّسْلِمَةٌ لَكَ یعنی اُمت مسلمہ ہماری ذریت میں سے بنائیو۔اللہ تعالیٰ نے یہاں یہ بتایا ہے کہ ہمارا مقصد یہ ہے کہ جس وقت محمد صلی اللہ علیہ وسلم دنیا کی طرف مبعوث ہوں تو آپ کی قوم اُمَّةٌ مُسْلِمَةٌ بننے کی اہلیت رکھتی ہو اور ابراہیمی دعاؤں