انوار القراٰن (جلد ۱) — Page 431
تغییر حضرت خلیفة المسح الثالث ۴۳۱ سورة ال عمران پیدا کی جائے جو تو حید باری پر قائم ہو اور جو اللہ تعالیٰ کی اطاعت اور فرمانبرداری سے اپنی زندگیوں کو گزارنے والی ہو۔پندرھواں مقصد یہ بیان ہوا ہے کہ بلدا امنا۔امن کا لفظ ان آیات میں تین مختلف مقاصد کے بیان کے لئے اللہ تعالیٰ نے استعمال کیا ہے۔یہاں اللہ تعالی فرماتا ہے کہ ہم اس گھر کو دنیا کے ظالمانہ حملوں سے اپنی پناہ میں رکھیں گے اور کوئی ایسا حملہ جو خانہ کعبہ کو مٹانے کے لئے کیا جائے گا وہ کامیاب نہیں ہوگا بلکہ حملہ آور تباہ و برباد کر کے رکھ دیئے جائیں گے تا دنیا اس سے یہ نتیجہ اخذ کرے کہ وہ نبی جسے ہم یہاں سے مبعوث کرنا چاہتے ہیں وہ بھی خدا تعالیٰ کی پناہ میں ہوگا اور دنیا کی کوئی طاقت اس کی ذات کو ہلاک یا اس کے مشن کو نا کام نہیں کر سکے گی اور تا دنیا یہ بھی نتیجہ نکالے کہ جو شریعت نبی معصوم کو دی جائے گی وہ ہمیشہ کے لئے ہوگی اور خدا تعالیٰ اس کی حفاظت کا خود ذمہ دار ہوگا۔سولہویں غرض جو خانہ کعبہ سے وابستہ ہے وہ یہ ہے کہ وارزُقُ أَهْلَهُ مِنَ الثَّمَرَاتِ اس میں اللہ تعالیٰ نے ہمیں یہ بتایا کہ میں بیت اللہ کو از سر نو تعمیر کروا رہا ہوں اس غرض سے بھی کہ تا بیت اللہ اور اس کی برکات کو دیکھ کر دنیا اس نتیجہ پر پہنچے کہ جو لوگ خدا تعالیٰ کی راہ میں اپنے پرموت وارد کرتے ہیں اور اس کے ہو کر اس کی راہ میں قربانی دیتے ہیں اور دنیا سے کٹ کر صرف اسی کے ہی ہو رہتے ہیں ان کے اعمال ضائع نہیں ہوتے بلکہ شیریں پھل انہیں ملتا ہے اور عاجزانہ اور عاشقانہ اعمال کے بہترین نتائج ان کے لئے مقدر کئے جاتے ہیں۔سترھویں غرض بیت اللہ کے قیام کی یہ بتائی کہ رَبَّنَا تَقَبَّلُ مِنا بیت اللہ کی تعمیر کی ایک غرض یہ ہے کہ تا دنیا یہ جانے اور پہچانے کہ روحانی رفعتوں کا حصول دعا کے ذریعہ سے ہی ممکن ہے۔جب دعا میں انسان کا تضرع اور ابتہال انتہا کو پہنچ جاتا ہے اور موت کی سی کیفیت پیدا ہو جاتی ہے تب فضل الہی آسمان سے نازل ہوتا ہے اور معرفت کی راہیں بندہ پر کھولی جاتی ہیں۔غرض اللہ تعالیٰ نے یہاں بیت اللہ کے قیام کی غرض بتائی کہ یہاں ایک ایسی قوم پیدا ہوگی جو دعا اپنی تمام شرائط کے ساتھ کرے گی اور دعا میں ان پر ایک موت کی سی کیفیت وارد ہو گی اور ان کا وجود کلیۂ فنا ہو جائے گا اور پانی بن کر آستانہ رب پر بہہ نکلے گا اور وہ جانتے ہوں گے کہ ہم اپنے اعمال کے نتیجہ میں محض اعمال کے نتیجہ میں) کچھ حاصل نہیں کر سکتے جب تک ہم دعا کے ذریعہ اللہ تعالیٰ کے