انوار القراٰن (جلد ۱) — Page 430
۴۳۰ سورة ال عمران تغییر حضرت خلیفة المسح الثالث طور پر دنیا کو اطمینانِ قلب پہنچانے والی ہوگی یعنی ہر دو معنی یہاں چسپاں ہوتے ہیں۔ایک تو یہ کہ دنیا کو اگر امن نصیب ہو سکتا ہے تو وہ مکہ کی وساطت سے دوسرے یہ کہ دنیا کی ارواح اگر اطمینان قلب حاصل کر سکتی ہیں۔دنیا کی عقلیں اگر تسلی پاسکتی ہیں تو صرف اس تعلیم کے نتیجہ میں جو مکہ میں نازل ہوگی۔دسویں غرض اور دسواں مقصد ان آیات میں خانہ کعبہ کا اللہ تعالیٰ نے یہ بیان کیا ہے۔کہ اتَّخِذُوا مِنْ مَقَامِ إِبْرَاهِمَ مُصَلَّی اس سے پہلی ایک آیت میں مَقَامُ الرجم کا ذکر تھا۔اس سے مراد یہ تھی کہ یہ مقام ایسا گھر ہے جہاں بنیاد ڈالی گئی ہے اس حقیقی عبادت کی جو محبت اور ایثار اور عشق الہی کے چشمہ سے بہہ نکلتی ہے اور اِتَّخِذُوا مِنْ مَقَامِ إِبْرهِمَ مُصَلَّی میں اس عبادت کا ذکر ہے جو تذلل اور انکسار کے منبع سے پھوٹتی ہے۔غرض اللہ تعالیٰ نے یہاں فرمایا کہ بیت اللہ کی تعمیر کی ایک غرض یہ ہے کہ ایک ایسی قوم پیدا کی جائے جو تذلل اور انکسار کے ساتھ اپنے رب کی عبادت کرنے والی ہو اور جو تذلل اور انکسار کی عبادت کے لئے حضرت ابراہیم علیہ السلام کے مقام کے کل ساری دنیا میں قائم کرے اور اشاعت اسلام کے مرا کز کو قائم کرنے والی ہو۔گیارھویں غرض تعمیر بیت اللہ کی یہ بیان کی گئی ہے کہ طهرا بَيْتِی اور اس میں ہمیں یہ بتایا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ کا منشاء یہ ہے کہ خانہ کعبہ کو ظاہری صفائی اور باطنی طہارت کا سبق سیکھنے کے لئے ساری دنیا کے لئے بطور ایک جامعہ اور یو نیورسٹی اور ایک مرکز کے بنایا جائے۔بارھویں غرض تعمیر کعبہ کی یہ بتائی گئی ہے کہ لِلطَّابِفین یعنی اقوام عالم کے نمائندے بار بار یہاں جمع ہوا کریں گے۔حضرت ابراہیم علیہ السلام کو اللہ تعالیٰ نے قریباً اڑھائی ہزار سال پہلے یہ بتایا تھا کہ تمام اقوام عالم کے نمائندے بار بار یہاں آئیں گے طواف کرنے کے لئے بھی اور دوسری ان اغراض کے پورا کرنے کے لئے بھی جن کا تعلق خانہ کعبہ سے ہے۔تیرھواں مقصد یہ بیان کیا گیا ہے کہ والمکفین خانہ کعبہ اس غرض سے از سر نو تعمیر کروایا جارہا ہے کہ اس کے ذریعہ سے ایک ایسی قوم پیدا کی جائے جو اپنی زندگیاں خدا تعالیٰ کی راہ میں وقف کرنے والے ہوں اور اس طرح بیت اللہ کے مقاصد کو پورا کرنے والے ہوں۔چودھواں مقصد یہاں یہ بیان ہوا ہے کہ اللہ تعالیٰ چاہتا ہے کہ والزرع السُّجُودِ ایک ایسی قوم