انوار القراٰن (جلد ۱)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 427 of 587

انوار القراٰن (جلد ۱) — Page 427

تغییر حضرت خلیفة المسح الثالث ۴۲۷ سورة ال عمران ہے یہاں اللہ تعالیٰ نے یہ فرمایا کہ دیکھو ہمارے بندے ابراہیم (علیہ السلام) نے اور بہتوں نے اس کی نسل میں سے انقطاع نفس کر کے اور تعشق باللہ اور محبت الہی میں غرق ہو کر سچے عاشق اور محب کی طرح أَسْلَمْتُ لِرَبِّ الْعَلَمينَ کا نعرہ لگایا اور دنیا کے لئے ایک نمونہ بنایا۔ہم نے اس بیت اللہ کی آبادی کا اس لئے انتظام کیا ہے کہ اس کے ذریعہ عشاق الہی کی ایک ایسی جماعت پیدا کی جاتی رہے جو تمام حجابوں کو دور کر کے اور دنیا کے تمام علائق سے منہ موڑ کر خدا تعالیٰ کے لئے اپنی مرضات سے ننگے ہو کر اور تمام خواہشات کو قربان کر کے فنافی اللہ کے مقام کو حاصل کرنے والے ہوں اور اس عبادت کو احسن طریق پر اور کامل طور پر ادا کرنے والے ہوں جس کا تعلق محبت اور ایثار سے ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اس بات کی وضاحت فرمائی ہے کہ عبادت دو قسم کی ہوتی ہے ایک وہ عبادت ہے جو تذلل اور انکسار کی بنیادوں پر کھڑی ہوتی ہے اور ایک وہ عبادت ہے جو محبت اور ایثار کی بنیادوں پر قائم ہے۔ہماری نماز جو ہے یہ اس قسم کی عبادت ہے جو تذلل اور انکسار کے مقام پر کھڑی ہے کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فرمایا ہے کہ نماز دعا ہے اور دعا کے لئے انتہائی تذلل اور انکسار کو اختیار کرنا ضروری ہے۔جس شخص کے دماغ میں اپنے رب کے مقابلہ میں ایک ذرہ بھی تکبر ہو اس کی دعا کبھی قبول نہیں ہوسکتی۔پس ہماری نمازیں صرف اس صورت میں عبادت بنتی ہیں کہ جب وہ حقیقتا تذلل اور انکسار کے مقام پر کھڑی ہوں۔اس کے مقابلہ میں دوسری عبادت وہ ہے جو محبت اور ایثار کی بنیادوں پر کھڑی ہوتی ہے اور حضرت ابراہیم علیہ السلام کی یہ عبادت جس کا تعلق تعمیر کعبہ سے ہے۔جس کا تعلق حفاظت کعبہ سے ہے اور جس کا تعلق بیت اللہ کے لئے خود کو اور اپنی اولا د کو وقف کر دینے کے ساتھ ہے اور اس کے لئے دعائیں کرنے کا تعلق ہے یہ محبت والی عبادت ہے اور خدا تعالیٰ کی محبت اور خدا تعالیٰ کے عشق کا جو مظاہرہ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے کیا وہ عدیم المثال تھا۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ یہ مقام ابراہیم ہے اس مقام سے ہم ایک ایسی اُمت پیدا کریں گے جو لاکھوں کی تعداد میں ہوگی اور ہر زمانہ میں پائی جاتی ہوگی اور اس اُمت کے کسی فرد کا اگر تم حضرت ابراہیم علیہ السلام کی اس قربانی کے ساتھ مقابلہ کرو گے تو اس کو ان سے کم نہیں پاؤ گے۔نبی کریم صلی اللہ وسلم کی قوت قدسیہ کے نتیجہ میں اس قوم نے پیدا ہونا تھا لیکن اس قوت قدسیہ کے جو اثرات ہیں ان کو دنیا میں مؤثر طریق پر پھیلانے کے لئے قریباً اڑھائی ہزار سال پہلے خانہ کعبہ کی