انوار القراٰن (جلد ۱) — Page 420
تفسیر حضرت خلیفة المسح الثالثة غَنِيٌّ عَنِ الْعَلَمِينَ (۹۸) ۴۲۰ سورة ال عمران اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کے ذریعہ بیت اللہکی از سرنو تعمیر کی اور حضرت ابراہیم علیہ السلام سے یہ عہد لیا کہ وہ اور ان کی نسل ایک لمبے عرصہ تک خدا تعالیٰ کی راہ میں اپنی زندگیوں کو وقف کر کے ان ذمہ داریوں کو نباہیں گے جو بیت اللہ کی تعمیر سے تعلق رکھتی ہیں اور تدبیر اور دعا سے یہ کوشش کریں گے کہ اللہ تعالیٰ ان کی نسل کو تو فیق عطا کرے کہ جب خدا تعالیٰ کا آخری شارع نبی دنیا کی طرف مبعوث ہو تو وہ اسے قبول کریں اور اسلام کے قبول کرنے کے بعد جو انتہائی قربانی اس قوم کو خدا تعالیٰ کے نام کے بلند کرنے کیلئے دینی پڑے وہ قربانی خدا تعالیٰ کی راہ میں دیں۔میں نے بتایا تھا کہ بیت اللہ کے ساتھ بہت سی اغراض اور بہت سے مقاصد وابستہ ہیں جن کا ذکر قرآن کریم میں ہمیں نظر آتا ہے۔اور جن کا تعلق حقیقتا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت سے ہے۔یہ آیات جو میں نے ابھی تلاوت کی ہیں جب ان کا غور سے مطالعہ کیا جائے تو ہمیں مندرجہ ذیل مقاصد نظر آتے ہیں جن مقاصد کے پیش نظر اللہ تعالیٰ نے بیت اللہ کی از سرنو تعمیر کروائی اور حضرت ابراہیم علیہ السلام اور ان کی نسل سے قریباً اڑھائی ہزار سال تک وہ قربانیاں لیتا چلا گیا۔پہلی غرض وضع للناس بیان ہوئی ہے۔دوسری مبرا تیرے هُدى للعلمین میں ایک مقصد بیان ہوا ہے۔چوتھے ایت بینت پانچویں مَقَامُ إِبْرَاهِيمَ چھٹے وَمَنْ دَخَلَهُ كَانَ أَمِنَّا ساتویں وَ لِلَّهِ عَلَى النَّاسِ۔آٹھویں جَعَلْنَا الْبَيْتَ مَثَابَةً لِلنَّاس نویس و آمنا دسویں وَاتَّخِذُوا مِنْ مَّقَامِ إِبْرَاهِم مُصلَّی گیارہواں مقصد طرا بَيْتِى میں بیان کیا گیا ہے۔بارہواں مقصد للطابفین تیرہواں عکفین کے لفظ میں بیان ہوا ہے۔چودہواں مقصد والركع السجود کے اندر بیان کیا گیا ہے۔پندرہواں مقصد رَبِّ اجْعَل هذا بلدًا مِنا میں بیان کیا گیا ہے۔سولہواں مقصد وَارزُقُ أَهْلَهُ مِنَ الثَّمرات میں بیان کیا گیا ہے۔سترھواں مقصد رَبَّنَا تَقَبَّلُ مِنا میں بیان کیا گیا ہے۔اٹھارواں مقصد الشیخ کے اندر بیان ہوا ہے۔انیسواں مقصد العلیم کے اندر بیان ہوا ہے۔بیسواں مقصد و من ذُريَّتِنَا أُمَّةٌ مُسْلِمَةٌ لَكَ میں بیان ہوا ہے۔اکیسواں مقصد وَ ارِنَا مَنَاسِكَنَا میں بیان ہوا ہے بائیسواں مقصد وتب علينا میں بیان ہوا ہے اور تئیسواں مقصد رَبَّنَا وَابْعَثْ فِيهِمْ رَسُولًا مِنْهُم عَلَيْنَا