انوار القراٰن (جلد ۱) — Page 416
تفسیر حضرت خلیفة المسح الثالث ۴۱۶ سورة ال عمر<mark>ان</mark> دل<mark>ان</mark>ے کی باتیں کر کے بھڑکا رہے تھے اور وہ صلح کی طرف مائل نہیں ہورہے تھے ، میں اُن کو باہر لے گیا۔ایک کھیت میں ہم آرام سے بیٹھ گئے اور میرے دماغ کے کسی کو نہ میں بھی یہ خیال نہیں آیا کہ کپڑوں کو مٹی لگ جائے گی۔زمین پر بیٹھ گئے اُن سے باتیں شروع کیں آدھ پون گھنٹہ میں آرام کے ساتھ اُن کی صلح ہوگئی ، کیونکہ اکیلے تھے اور اُن کو جوش دل<mark>ان</mark>ے والا کوئی نہیں تھا کپڑے کی صفائی ضروری ہے لیکن یہ سمجھنا کہ کپڑے کو صاف ستھرا رکھنا کہ مٹی بھی نہ لگے یہ اتنا بڑا ثواب ہے کہ اس سے بڑھ کر اور کوئی ثواب ہی نہیں، یہ غلط ہے۔جب تکلف بیچ میں آجائے گا تو کپڑے کی صفائی بھی گناہ بن جائے گی، یعنی اس حد تک صفائی کہ مٹی لگی ہی نہ ہو کوئی داغ نہ لگا ہوا ہو یہ صحابہ کرام کی زندگیوں میں نظر آتا ہے کہ ایسا زم<mark>ان</mark>ہ بھی تھا کہ وہ کوئی کپڑا بھی نہیں بچھا سکتے تھے نماز کا وقت ایسی جگہ آگیا ہے کہ مسجد نہیں جا سکتے وہیں زمین پر ہی نماز پڑھ لیتے تھے کیونکہ جُعِلَتْ لِي الْأَرْضُ مَسْجِدا(مسلم کتاب المساجد)۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے۔بڑی بے تکلف زندگی ہے جو اسلام نے ہمارے سامنے پیش کی ہے جو قر آنی ہدایت نے ہمیں بتائی ہے۔پس جو شخص تقوئی سے کام لیتا ہے یعنی جن برائیوں سے جن کمزوریوں سے اسلام نے روکا ہے اُن سے بچتا ہے اور <mark>ان</mark> راہوں کو اختیار کرتا ہے۔۹۳ (خطبات ناصر جلد پنجم صفحہ ۷۳۵ تا ۷۴۱ ) آیت لَنْ تَنَالُوا الْبِرَّ حَتَّى تُنْفِقُوا مِنَا تُحِبُّونَ، وَمَا تُنْفِقُوا مِنْ شَيْءٍ فَإِنَّ اللَّهَ بِهِ عَلِيمٌ اللہ تعالیٰ نے اپنے <mark>مومن</mark> بندوں کو بار بار اور مختلف پیرایہ میں <mark>ان</mark>فاق پر ابھارا ہے ایک جگہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے أنْفِقُوا مِنَا رَزَقْنَكُمْ۔یہاں <mark>ان</mark>س<mark>ان</mark> کو اس طرف متوجہ کیا کہ جو کچھ اس کے پاس ہے وہ - اللہ تعالیٰ کی عطا ہے اور یہ اس کی مہرب<mark>ان</mark>ی ہے کہ وہ اپنی عطا میں سے ایک حصہ واپس م<mark>ان</mark>گتا ہے اس وعدہ پر کہ وہ اس <mark>ان</mark>فاق پر اور اس خرچ پر اپنی طرف سے ثواب دے گا چیز اسی کی ہے لیکن جہاں بے شمار فضل اور نعمتیں اس نے اپنے بندے پر کی ہیں وہاں اس نے یہ بھی فضل کیا کہ جود یا اس میں سے کچھ واپس م<mark>ان</mark>گا اور جن لوگوں نے اس کی آواز پر لبیک کہتے ہوئے اس کے حضور اس کے دیئے ہوئے میں سے کچھ پیش کر دیا تو اس کے بدلہ میں اس نے ثواب بھی دیا۔