انوار القراٰن (جلد ۱) — Page 417
۴۱۷ سورة ال عمران تفسیر حضرت خلیفة المسح الثالث اس آیت کے آخر میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے وَالْكَفِرُونَ هُمُ الظَّلِمُون کہ اس حقیقت کے باوجود وہ لوگ جو ہماری نعمتوں کا شکر ادا نہیں کرتے اور ناشکرے بن جاتے ہیں اور ہماری آواز پر لبیک نہیں کہتے اور ہمارے کہنے کے مطابق خرچ کرنے کے لئے تیار نہیں ہوتے۔حقیقتا وہ اپنے نفسوں پر ہی ظلم کرنے والے ہیں۔پس اس آیت میں اس طرف بھی توجہ دلائی تھی کہ جو کچھ تم سے مانگا جارہا ہے وہ بھی تمہارا نہیں گھر سے تو کچھ نہ لائے۔اللہ تعالیٰ کی عطا ہے اور اللہ تعالیٰ اپنی عطا میں سے کچھ مانگ کے تمہارے لئے مزید نعمتوں کے دروازے کھولنا چاہتا ہے اگر پھر بھی تم ناشکر گزار بندے بنے رہو تو بڑے ہی ظالم ہو۔اپنے نفسوں پر بڑا ہی ظلم کرنے والے ہو۔دوسری جگہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا انْفِقُوا فِي سَبِیلِ اللهِ کہ جس خرچ کا ہم مطالبہ کرتے ہیں جان مال دوسری سب وہ چیزیں جو اللہ تعالیٰ نے ہمیں دی ہیں اور وہ کہتا ہے کہ اس میں سے کچھ مجھے واپس لوٹاؤ تا کہ میرے ثواب کو حاصل کرو اور یہ خرچ فی سبیل اللہ ہونا چاہیے یعنی ان راہوں پر ہونا چاہیے جو را ہیں اللہ تعالیٰ نے خود بتائی ہیں بعض دفعہ خرچ کی بعض راہیں انسان کی اپنے نفس سے محبت بتاتی ہے محبت نفس اسے کہتی ہے کہ یہاں خرچ کرو وہاں خرچ کرو اور آرام حاصل کرو د نیوی لذتوں میں سے کچھ حصہ پاؤ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ جب ہم کہتے ہیں کہ خرچ کرو تو یہ مراد نہیں ہوتی کہ نفس کو بتائی ہوئی راہ پر خرچ کرو اور اس طرح بعض دفعہ خاندان خرچ کرواتا ہے بعض جاہل اور نا سمجھ لوگ خاندان کی جھوٹی عزت کی خاطر نا قابل برداشت قرض اٹھا لیتے ہیں اور برادری کو خوش کرنے کیلئے افراط کر رہے ہوتے ہیں تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ جب ہم یہ کہتے ہیں کہ خرچ کرو مِمَّا رَزَقْنَكُم اس چیز سے جو ہم نے تمہیں دی ہے تو ہمارا یہ مطلب نہیں کہ اس راہ میں خرچ کرو جو تمہاری برادری تمہیں بتائے۔اسی طرح خودی، تکبر، نمائش کا احساس خرچ کی بعض راہیں بتاتا ہے تو ان کے اوپر خرچ کرنا اللہ تعالیٰ کا مطالبہ نہیں اس آیت میں یہ فرمایا کہ جب ہم کہتے ہیں خرچ کرو تو اس سے ہماری مراد یہ ہے کہ فی سبیل اللہ خرچ کروان راہوں پر خرچ کرو جو ہم نے متعین کی ہیں اور جن کی نشان دہی ہم نے کی ہے۔جو آیت شروع میں میں نے پڑھی تھی کہ کن تَنَالُوا الْبِرَّ حَتَّى تُنْفِقُوا مِنَا تُحِبُّونَ اس میں ایک تیسرا مضمون بیان ہوا ہے اور اس میں ہمیں یہ بھی پتہ لگتا ہے کہ جب قرآن کریم کے شروع میں اللہ تعالیٰ نے یہ دعوی کیا کہ یہ تعلیم ایسی ہے کہ هُدًى لِلْمُتَّقِيْنَ ہے اس کے کیا معنی ہیں؟ مِمَّا تُحِبُّونَ