انوار القراٰن (جلد ۱)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 412 of 587

انوار القراٰن (جلد ۱) — Page 412

تفسیر حضرت خلیفة المسح الثالث قو میں بعض دوسروں پر فوقیت رکھتی ہیں۔۴۱۲ سورة ال عمران خطبات ناصر جلد ہشتم صفحه ۶۹۱ تا ۶۹۵) آیت بَلَى مَنْ أَوْفَى بِعَهْدِهِ وَاتَّقَى فَإِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ الْمُتَّقِينَ ۷۷ اللہ تعالیٰ متقیوں سے محبت کرتا ہے۔قرآن کریم کی اصطلاحی لغت میں بتایا گیا ہے کہ جب لفظ محبت کا فاعل انسان ہو اور یہ مفہوم ہو کہ انسان نے اللہ تعالیٰ سے محبت کی تو اس کے معنی یہ ہوتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کے قرب کے حصول کے لئے اُس نے کوشش کی اور جب قرآن کریم میں اس لفظ کو اس طرح استعمال کیا جائے کہ اللہ نے اپنے بندے سے محبت کی تو اس کے معنی یہ ہوتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے بندے کو پسند کیا اور اُس کو اپنے انعامات اور رحمتوں سے نوازا۔یہاں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ جو اپنے عہد کو پورا کرتے ہیں اور تقویٰ کی راہوں کو اختیار کرتے ہیں وہ متقی ہیں اور اللہ تعالیٰ ایسے متقیوں سے یقیناً محبت رکھتا ہے اور اپنے انعامات اور رحمتوں سے انہیں نوازتا ہے۔اپنے عہد کو پورا کرنے کے کیا معنی ہیں؟ عہد کے معنی ہیں حفاظت اور نگہداشت اور بار بار اور ہر حالت میں کسی چیز کی حفاظت کرنا اور مفردات راغب نے آؤ فُوا بِالْعَهْدِ کے معنی یہ کئے ہیں اوفُوا بحفظ الایمان اپنے عہد کی حفاظت کرو، اپنے ایمان کی حفاظت کرو اور ایمان کے معنی مفردات راغب نے یہ کئے ہیں کہ بھی یہ اسم کے طور پر استعمال ہوتا ہے، اسْمًا لِلشَّرِيعَةِ الَّتِي جَاءَ بِهَا مُحَمَّدُ عَلَيْهِ الصَّلوةُ وَالسَّلام۔یعنی ایمان اُس شریعت کا نام ہے جسے محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم لے کر آئے۔جو شریعت اللہ تعالیٰ کی طرف سے قرآن کریم کی شکل میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل ہوئی اس شریعت کا نام اور اسم " ایمان" ہے۔لفظ ایمان بطور اسم اس معنی میں استعمال کیا جاتا ہے۔پس اوفُوا بِالْعَهْدِ کے یہ معنی ہوں گے کہ شریعت محمدیہ نے جو احکام اوامر و نواہی کی شکل میں دیئے ہیں اُن کی نگہداشت کرو۔ایسا نہ ہو کہ کسی کام کے نہ کرنے کا حکم ہو اور غلطی سے تم وہ عمل بجالا ؤ جس سے روکا گیا ہے اور کسی کام کے کرنے کا حکم ہو اور غفلت سے تم اُسے چھوڑ دو اور عمل نہ کرو۔پس فرمایا کہ جو شریعت محمدیہ کے احکام کی پابندی کرتے ہیں اور اس عہد کی حفاظت کرتے ہیں یعنی ہر وقت چوکس اور بیدار رہ کر اس کوشش میں لگے رہتے ہیں کہ کوئی حکم بجا آوری سے رہ نہ جائے اور کسی نہی کا انسان غفلت کے نتیجہ میں مرتکب نہ ہو جائے۔وَاتَّقُوا اور جو تقویٰ کو اختیار کرتے ہیں اللہ تعالیٰ ایسے