انوار القراٰن (جلد ۱) — Page 413
تفسیر حضرت خلیفة المسح الثالث ۴۱۳ سورة ال عمران تقیوں پر اپنے انعامات اور رحمتیں نازل کرتا ہے ایمان کی حفاظت کے تین رُخ ہیں ایک مومن مذہبی رنگ میں اُس وقت مومن کہلاتا ہے جب اُس میں تین باتیں پائی جائیں۔ایک تو یہ کہ وہ دل سے حق کو حق سمجھے۔دوسرے زبان سے حق کا اقرار کرے اور تیسرے اسی کے مطابق یعنی حق اور ہدایت کے مطابق اُس کے جوارح یعنی اُس کی عملی قوتیں عمل میں مصروف ہوں۔یہ لغوی باتیں میں اس لئے بتا رہا ہوں کہ گفتگو کے دوران میں نے محسوس کیا ہے کہ یہ چیزیں بہت سے دوستوں کے ذہن میں نہیں ہیں۔ایک تو میں یہ بتا رہا ہوں کہ ایمان نام ہے شریعت محمدیہ کا۔جس طرح میرے سامنے دوست بیٹھے ہیں۔ان کے اپنے اپنے نام ہیں۔میرا نام ناصر ہے۔اسی طرح ایمان شریعت محمدیہ کا نام ہے۔دوسرے میں نے بتایا کہ تین چیزیں اس میں پائی جاتی ہیں یعنی زبان کا اقرار اور دل کی تصدیق یعنی حق کو حق سمجھنے کی کیفیت قلبی اور ذہنی اور جو قوائے علیہ اللہ تعالیٰ نے انسان کو عطا کئے ہیں ان کے ذریعہ سے بھی عمل اس تصدیق ، اس حقیقت ، اس حقانیت ، اس ہدایت اس شریعت کے مطابق ہو اور مفردات راغب میں لکھا ہے ان تینوں میں سے ہر ایک کو ایمان کہا جاتا ہے۔وَيُقَالُ لِكُلِ وَاحِدٍ مِنَ الْإِعْتِقَادِ وَالْقَوْلِ الصَّدِقِ وَ الْعَمَلِ الصَّالِحِ ایمانا اور تقویٰ کے معنی ہیں کہ اپنے نفس کو اُن باتوں سے محفوظ رکھنا جو گناہ ہیں اور جو اللہ تعالی کو پسند نہیں اور اتَّقَى فَلَانٌ بِكَذَا إِذَا جَعَلَهُ وقَايَةٌ لِنَفْسِهِ۔اس واسطے ہم تقویٰ کے معنی یہ کیا کرتے ہیں کہ اللہ کا تقویٰ اختیار کرو کا مطلب ہے کہ اللہ کو اپنے لئے ڈھال کے طور پر حفاظت کا ذریعہ بناؤ۔پس اللہ تعالیٰ نے یہاں پر فرمایا کہ جو شریعت محمدیہ یعنی ایمان کی نگہداشت اور حفاظت کرتا ہے یعنی شریعت محمدیہ پر ایمان رکھتے ہوئے یہ حفاظت کرتا ہے کہ اُس کا نفس کوئی ایسا کام نہ کرے جس کی شریعت محمدیہ نے اجازت نہیں دی اور کوئی ایسا کام کرنے سے رہ نہ جائے جس کا حکم اُس شریعت کی طرف سے دیا گیا جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل ہوئی اور اس کے ساتھ جو تقویٰ کی راہوں کو اختیار کرتا ہے اور اللہ تعالیٰ کو اپنے لئے بطور ڈھال کے اور ذریعۂ حفاظت بنالیتا ہے یعنی دُعائیں کرتا ہے اور کوشش کرتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کا تحرب حاصل ہو اور خدا تعالیٰ کی پناہ میں وہ آجائے تاکہ شیطان کے ہر قسم کے حملوں سے وہ محفوظ رہ سکے تو ایسے متقیوں سے اللہ تعالیٰ محبت رکھتا ہے یعنی اپنے انعاموں اور اپنی رحمتوں اور اپنی رضا سے انہیں نوازتا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔