انوار القراٰن (جلد ۱)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 411 of 587

انوار القراٰن (جلد ۱) — Page 411

تفسیر حضرت خلیفہ المسیح الثالث ۴۱۱ سورة ال عمران ٹھہرے۔سب اپنی جگہ درست لیکن آپ کے منہ سے خدا تعالیٰ نے یہ اعلان کروایا۔قُلْ إِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ مِثْلُكُمْ کہ بشر ہونے کے لحاظ سے مجھے میں اور تم میں اے مردو! اور اے عورتو! کوئی فرق نہیں۔عظیم مساوات ہے اور اس کا ایک پہلو یہ ہے جو دوسری جگہ زیادہ واضح کیا گیا ہے وَلَا يَتَّخِذَ بَعْضُنَا بَعْضًا أَرْبَابًا مِنْ دُونِ اللہ یہ جو عدم مساوات انسانوں کے درمیان ہے اس کی سب سے زیادہ بھیانک شکل انسانی تاریخ میں یہ ہے کہ مذہبی لحاظ سے بعض کو آربابا مِّن دُونِ اللہ کا درجہ دے دیا گیا اور بعض کو انسان نے اپنے فیصلے کے مطابق کم درجہ دے دیا یعنی خدا تعالی کا فیصلہ نہیں انسان کا اپنا ہی فیصلہ ہے۔اُس کا نتیجہ یہ نکلا کہ اتنا خون خرابہ ہوا مذہب کے نام پر کہ الامان حالانکہ اسلام نے کہا یہ تھا وَلَا يَتَّخِذَ بَعْضُنَا بَعْضًا أَرْبَابًا مِنْ دُونِ اللهِ - کوئی انسان کسی دوسرے کو ( خدا کے علاوہ ) رب نہیں بنائے گا۔ربّ ایک ہی ہے۔جس کے معنے یہ تھے کہ کسی چیز کے حصول کے لیے اپنی کسی ربوبیت کے حصول کے لیے کسی انسان کے پاس نہیں جائے گا نہ اس کے سامنے جھکے گا نہ اپنی تکالیف دور کرنے کے لیے اس کے اوپر بھروسہ کرے گا وغیرہ وغیرہ لیکن بنا لیے انسانوں نے ارباب۔لیکن اب زمانہ آگیا کہ تمام وہ ارباب جو اللہ کے علاوہ مذہبی دنیا میں بنائے جاتے تھے ان کا خاتمہ کر دیا جائے اور اسی کو ہمارے دلوں میں گاڑنے کے لیے قرآن کریم نے اعلان کیا۔فلا تُرَكُوا أَنْفُسَكُمُ (النجم : ۳۳) خود اپنے کو اور اپنوں میں سے کسی کو پاکباز نہ قراردیا کرو تا کہ وہ ارباب نہ بن جائیں۔فَلَا تُرَكُوا أَنْفُسَكُم هُوَ أَعْلَمُ بِمَنِ اتَّقی اس بات کا فیصلہ کرنا کہ کون متقی ہے اور کون نہیں خدا کا کام ہے بندے کا کام ہی نہیں ہے۔جب بندے کو یہ طاقت ہی نہیں دی گئی کہ کون پر ہیز گار ہے، کون خدا تعالیٰ کی منشا کے مطابق اس کی تعلیم کے مطابق اپنی زندگی کے دن گزار رہا ہے اور کون نہیں ، بندے کا کام نہیں کہ کہے فلاں متقی اور فلاں پر ہیز گار۔بڑی خرابیاں پیدا ہو ئیں اور ہورہی ہیں اس وجہ سے فَلَا تُرَكُوا أَنْفُسَكُمْ یہ ایک ہی مضمون ہے جسے مختلف طرفوں سے خدا تعالیٰ نے ہمارے سامنے پیش کر کے ہماری عقلوں میں جلا اور روشنی اور نور پیدا کیا ہے هُوَ اَعْلَمُ بِمَنِ اتَّقی قوموں کے باہمی تعلقات تھے قرآن کریم کہتا ہے، کوئی قوم کسی قوم کو حقیر نہ سمجھے۔یو۔این۔او کا ویٹو تو ختم کر دیا گیا۔سپر پاورز (Super Powers) نہیں رہیں اس آیت کے بعد۔جب نہیں خرابی پیدا ہوئی۔جو خرابیاں دور کرنا چاہتے تھے ، جن خرابیوں سے بچانا چاہتے تھے اس سے زیادہ خطر ناک خرابیاں اس ویٹو پاور نے پیدا کر دیں اور اس تصور نے کہ بعض 9191 19 b