انوار القراٰن (جلد ۱) — Page 410
تفسیر حضرت خلیفة المسح الثالث ۴۱۰ سورة ال عمران 66 دیکھ رہا ہوں ) پندرہویں صدی تمام اقوام کے ایک ہو جانے کی صدی ہے اور تمام اقوام کے ایک ہو جانے کے یہ معنی ہیں کہ وہ تمام اقوام جو اسلام سے باہر ہیں حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے جھنڈے تلے جمع ہو جائیں گی جو مہدی کے ہاتھ میں ہے اور تمام وہ قومیں جو اسلام کے اندر ہیں تمام تفرقے مٹا کر اور عداوتوں کو چھوڑ کر پیار اور عاجزی کی راہوں کو اختیار کرتے ہوئے اس جھنڈے تلے جمع ہو جائیں گی۔نوع انسان ایک قوم بن جائے گی۔یہ ہوگا یہ ہو کر رہے گا۔بہت سے لوگ اسے آج ناممکن سمجھیں گے مگر دیکھنے والے دیکھیں گے اور مشاہدہ کرنے والے مشاہدہ کریں گے کہ خدا نے جو بشارتیں دی ہیں وہ اپنے وقت پر ضرور پوری ہوں گی۔اقوام عالم کو جو ایک قوم بننا ہے اس کے لیے پہلا اصول یہ قائم کیا گیا کہ ”خدا ایک ہے۔اس نے تمہیں پیدا کیا تمہاری جو بھی قابلیتیں ، استعدادیں ہیں اسی کی عطا ہیں کس مقصد کے لیے پیدا کیا اور مقصد یہ ہے کہ وَمَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْإِنْسَ إِلَّا لِيَعْبُدُونِ (اللہ یت : ۵۷) اس کے بندے بن جاؤ اور خدا تعالیٰ نے یہ فیصلہ کیا ہے کہ اس زمانہ میں انسان اپنے مقصد حیات کو سمجھنے لگے گا اور اس مقصد کے حصول کے لیے اپنی زندگی کے دن گزارے گا۔دوسرا اصول جو اسلام نے دنیا کے سامنے پیش کیا ، وہ یہ تھا کہ کامل مساوات انسانوں کے درمیان قائم کی جائے کوئی قوم سپر (Super) اعلیٰ نہیں ہے۔ساری قو میں ایک جیسی حیثیت رکھتی ہیں خدا تعالیٰ کی نگاہ میں ایک عزت اور دین اسلام کی رو سے ایک ایسا احترام پانے والی ہیں۔قوم قوم میں کوئی فرق نہیں سارے بشر برابر ہیں ( بشر کے معنی عربی میں مرد اور عورت کے ہیں ) عظیم اعلان یہ کہ بشر بشر میں فرق لیکن ارشاد باری ہوا۔قُلْ إِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ مِثْلُكُم (الكهف : 11) حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم جن کی عظمت خدا تعالیٰ نے یہ قائم کی کہ لَوْلَاكَ لَمَا خَلَقْتُ الأفلاك ( موضوعات کبیر حرف اللام صفحہ ۵۹) یہ کائنات تیری خاطر پیدا کی گئی ہے۔حضرت محمد صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم جس کو اللہ تعالیٰ نے سب انسانوں سے بڑھ کر استعدادیں دیں کامل استعدادیں جو کسی اور کو نہیں دی گئیں۔حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جن کے لیے خدا تعالیٰ نے ایسے حالات پیدا کر دیئے کہ ساری کی ساری استعدادیں آپ کی کامل نشو و نما پا گئیں۔آپ کامل انسان بھی بنے ، آپ کامل بادشاہ بھی بنے ، آپ کامل آقا بھی بنے ، آپ کامل بادی بھی بنے ، آپ کامل شریعت لانے والے بھی بنے ، آپ کامل طور پر عَلی خُلُقٍ عَظِيمٍ بھی دورود