انوار القراٰن (جلد ۱) — Page 401
تفسیر حضرت خلیفة المسح الثالث ۴۰۱ سورة ال عمران ود کی اور وہ حکم بجالائے ان کی اتباع کرو یحببکم اللہ جس طرح حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اِن اَتَّبِعُ إِلَّا مَا يُوحَى إِلَى - خدا تعالیٰ کی وحی کی اتباع کر کے خدا تعالیٰ کے پیار اور محبت کو حاصل کیا تھا۔تم بھی حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے نقش قدم پر چل کر خدا تعالیٰ کی نازل ہونے والی قرآن کریم کی شکل میں وحی کے مطابق زندگی گزار کے خدا تعالیٰ کے پیار کو حاصل کر لو گے۔وَيَغْفِرْ لَكُمْ ذُنُوبَكُم حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی عظمت اور شان اور ہے۔آپ کے علاوہ ہر امتی جو ہے آپ کی اتباع کرنے والا اس میں کمزوریاں بھی ہوں گی ، تڑپ بھی ہوگی ، خدا سے ملنے کی لیکن بشری کمزوریاں بھی سرزد ہوں گی گھبرائے گا وہ۔اسے ایک بشارت کی ضرورت ہے آگے سے آگے بڑھنے کے لئے اور وہ بشارت یہاں دے دی گئی۔وَيَغْفِرُ لَكُمْ ذُنُوبَكُمْ تمہارے قصور تمہیں بخش دے گا اگر اصرار نہ کرو گے تو بہ کرو گے۔اللہ تعالیٰ بہت بخشنے والا بار بار رحم کرنے والا ہے۔فرمایا اعلان کر دو اطیعوا اللهَ وَالرَّسُول کہ اتَّبِعُونِی جب کہا گیا تو اس کے معنی ہی یہ ہیں یعنی کہا یہ گیا ہے کہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع کرو اللہ تعالیٰ کا پیار تمہیں حاصل ہو جائے گا۔آگے قرآن کریم نے ہی اس کی تفسیر کی کہ اِتَّبِعُوئی میں جس اتباع کا ذکر ہے اس کے معنی یہ ہیں اطِیعُوا اللہ خدا تعالیٰ کی کامل اطاعت کرو اور اس رنگ میں اطاعت کرو و الرسول رسول کی اطاعت کرو اس رنگ میں اطاعت کرو جس رنگ میں رسول محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے خدا تعالیٰ کی وحی کی اطاعت کی۔یہ ہے محبت جو انسان خدا تعالیٰ سے کرتا ہے اور یہ ہے جزا محبت کے رنگ میں جسے انسان خدا تعالیٰ سے حاصل کرتا ہے۔قرآن کریم نے بتایا ہے ہمیں۔لیکن جو اس راستے پر چلنے سے انکار کرے لا يُحِبُّ الكفرين تو اسے یا درکھنا چاہیے کہ اللہ تعالیٰ کی دشمنی وہ مول لے گا اور خدا تعالیٰ اسے اپنا دشمن سمجھے گا۔تو دوستی محبت یا دشمنی اور عداوت اس رنگ میں ہے قرآن کریم کے نزدیک، میں نے بتایا یہ اصولی اور بنیادی چیز ہے جو یہاں بیان کی گئی ہے کہ محبت کرنا خدا سے اس معنی میں ہے کہ حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اسوہ بنا کر آپ کے نقش قدم پر چلا جائے اور اللہ تعالیٰ کی کامل اطاعت کی جائے۔اسی رنگ میں جس رنگ میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے رب کی کامل اطاعت کی۔اس فرق کے ساتھ کہ انہوں نے اپنی استعداد اور قوت کے مطابق اپنے رب کی اطاعت کی اور آپ کے متبعین نے اپنی اپنی قوت اور استعداد کے مطابق اللہ تعالیٰ کی اطاعت کرنی ہے لیکن کرنی ہے حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم