انوار القراٰن (جلد ۱) — Page 402
تغییر حضرت خلیفة المسح الثالث ۴۰۲ سورة ال عمران کے نقش قدم پر چل کے۔یہ تو وہ محبت ہے جسے اسلام بتا تا ہے۔محبت خدا سے، محبت خدا کے رسول سے کامل اتباع کامل محبت کے نتیجے میں ہی پیدا ہوگی نا۔فاتبعونی میں ایک اور اعلان کیا گیا تھا یعنی کامل اطاعت کرو خدا کی محبت حاصل کرنے کے لئے اور کامل اتباع تم کر نہیں سکتے جب تک مجھ سے بھی کامل محبت نہ کرو تو یہاں دو محبتیں ہیں۔ایک حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت کرنا اس لئے کہ خدا کی نگاہ میں آپ کی عظمت بہت شان رکھتی ہے اور آپ کے نقش قدم پر چلنا اس کے لئے کہ اس طرح پر اللہ تعالیٰ کے وعدے کے مطابق خدا تعالیٰ کا پیار حاصل کیا جا سکے۔اگر کوئی یہ کہے کہ میں حضرت محمدصلی اللہ علیہ وسلم کے اسوہ کے مطابق زندگی نہیں گزارنا چاہتا لیکن خدا سے پیار کرنا چاہتا ہوں خدا کا پیار حاصل کرنا چاہتا ہوں تو اللہ تعالیٰ نے یہاں یہ اعلان کیا " تم خدا کا پیار حاصل نہیں کرو گے۔" إِنَّ اللهَ لَا يُحِبُّ الْكَفِرِينَ جو اس بتائے ہوئے طریق کا انکار کرتا ہے وہ خدا کی دشمنی مول لیتا ہے۔اس کی محبت حاصل نہیں کرتا۔قرآن کریم نے متعدد جگہ اس کی تفسیر میں یہ بتایا کہ یہ یہ یہ یہ چیزیں ہیں ، اعمال ہیں جن کے نتیجے میں خدا تعالی کا غضب بھڑکتا ہے۔وہ میں بتاؤں گا ان آیات کو جب لوں گا کہ اس میں یہ بھی ہے کہ یہ وہ باتیں ہیں جن سے حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم ساری عمر پر ہیز کرتے رہے۔آپ کی زندگی میں کوئی ایک واقعہ بھی ایسا نہیں جو اس قسم کا ہو کہ جو خدا کو پسند نہیں خدا تعالیٰ نے بہت سی باتیں بتائیں اور کہا کہ جو اس قسم کے ہیں اعمال ان سے خدا محبت کرتا ہے۔مثلاً فرمایا۔اِنَّ اللهَ يُحِبُّ الْمُحْسِنِينَ (البقرة : ۱۹۶) اعمال صالحہ کو احسن رنگ میں جو بجالاتے ہیں خدا تعالیٰ ان سے پیار کرتا ہے۔یہ بھی ایک عام اصولی بات ہے لیکن اس کی نسبت تفصیلی بات ہے اور ساتھ ہی یہ بتایا کہ حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ساری زندگی اسی رنگ میں رنگی ہوئی تھی لیکن وہ تو تفصیل ہے اس وقت میں بتایہ رہا ہوں کہ یہ فیصلہ کر نا کہ کوئی شخص خدا یا رسول سے محبت کرتا ہے یا دشمن ہے یہ انسان کا کام نہیں۔یہ خدا تعالیٰ کا کام ہے اور اس کا نہایت حسین طور پر اعلان کیا گیا ہے ان آیات میں جن کی تفسیر اس وقت میں نے آپ کے سامنے پیش کی ہے۔(خطبات ناصر جلد هشتم صفحه ۵۹۲ تا ۵۹۷) ہمارا یہ عقیدہ ہے کہ کوئی شخص اللہ تعالی کا پیار حاصل نہیں کر سکتا جب تک کہ وہ حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم