انوار القراٰن (جلد ۱)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 34 of 587

انوار القراٰن (جلد ۱) — Page 34

تغییر حضرت خلیفة المسیح الثالث ۳۴ سورة الفاتحة احاطہ نہیں کر سکتا۔نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی عزت کو دنیا میں قائم کرنے کا یہ مطلب ہے کہ ہم آپ کے ہر قول اور ہر فعل کو عزت کی نگاہ سے دیکھیں۔آپ کے ہر قول کو اللہ تعالیٰ کے کلام یعنی قرآن کریم کی تفسیر سمجھیں اور آپ کے ہر فعل کو ایسا حسین سمجھیں کہ اس کو اپنے لئے اسوہ اور ایک قابل تقلید نمونہ سمجھیں اور اس پر عمل کرنے کی کوشش کریں۔اگر ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اعمال کو ، آپ کی زندگی کے مختلف پہلووں کو اپنے لئے اُسوہ نہ سمجھیں اور اس کی بجائے کوئی اور نمونہ دنیا کے سامنے پیش کریں تو اس کا صاف مطلب ہے کہ ہم نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی عزت کو نہ سمجھا اور نہ اُسے قائم کرنے کی کوشش کی۔یہ ایک حقیقت ہے کہ اگر ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہر عمل کو جیسا کہ وہ حسین ہے اور احسان کرنے والا ہے سمجھنے لگیں اور اپنی زندگی کیلئے اسے نمونہ بنا ئیں اور اس طرح پر دنیا میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی عزت کو قائم کرنے کی کوشش کریں تو دنیا بڑی جلد نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حسن و احسان کی گرویدہ ہو جائے گی۔کیونکہ اس وقت دنیا میں حقیقی معنی میں نہ کہیں حسن نظر آتا ہے اور نہ کہیں کوئی محسن نظر آتا ہے۔محسن حقیقی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات ہے۔جسمانی اور دنیوی طور پر بھی اور روحانی اور اُخروی لحاظ سے بھی آپ ہی کی ذات محسن اعظم ہے اور آپ ہی کے ذریعہ اللہ تعالیٰ کو انسان نے اس رنگ میں اور اس شان میں اور اس حسن میں اور اس احسان میں پہچانا اور اس سے تعلق رکھا۔اللہ تعالیٰ کی ذات اپنی ذات کے لحاظ سے بھی اور اپنی صفات کے لحاظ سے بھی بے مثال و مانند ہے لیکن اس کے قریب تر اور اس کے مشابہ تر جووجود پیدا ہوا وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا وجود تھا اسی لئے اللہ تعالیٰ نے کہا۔میری صفات کے مظہر اتم محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) ہیں اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جو اللہ تعالیٰ کی صفات کے مظہر اتم ہیں اگر ہم آپ کی زندگی کے ہر پہلو کو اپنے لئے اُسوہ اور نمونہ سمجھیں اور بنا ئیں تو اپنی استعداد کے مطابق ہم بھی اللہ تعالیٰ کی صفات کے مظہر ہوں گے اور ایک لحاظ سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی عزت کو دنیا میں قائم کرنے کا موجب بنیں گے اور دوسرے لحاظ سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اُسوہ کو دنیا میں قائم کرنے کا وسیلہ بنیں گے۔(خطبات ناصر جلد دوم صفحه ۸۷۰ تا ۸۷۷)