انوار القراٰن (جلد ۱) — Page 33
تفسیر حضرت خلیفة المسح الثالث ٣٣ سورة الفاتحة اس کا دودھ چھڑا دیا ہے۔اب بچہ گندم یا کھجوریں وغیرہ نہیں کھا سکتا لیکن چونکہ دودھ چھڑانے کے نتیجہ میں اس کی جسمانی تربیت اور نشونما پر ایک بڑا اور گندہ اور مہلک اثر پڑتا ہے اور اس کا اثر پھر روحانی تربیت پر بھی پڑے گا اس لئے حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے خدائے رحمن کی صفت کو اپنے نظام میں جاری فرمایا اور دودھ پیتے بچوں کے لئے راشن مقرر کر دیا۔ہم سینکڑوں نہیں ہزاروں مثالیں ایسی دے سکتے ہیں جن سے پتہ لگتا ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ رضوان اللہ علیہم ہر وقت چوکس اور بیدار رہتے تھے اور کوشش کرتے تھے کہ اللہ تعالیٰ کی صفات کے جلوے دنیا کو ان کی زندگی میں اور ان کے نظام میں نظر آئیں تا کہ اللہ تعالیٰ کی ذات اور اس کی صفات کے حسن اور اس کے احسان سے دنیا متعارف ہو جائے اور اس کی طرف کھینچی چلی آئے اور غیر اللہ کے سارے رشتے اس کے نتیجہ میں کٹ جائیں اور صرف خدائے واحد و یگانہ کے ساتھ تعلق اطاعت اور تعلق عبودیت اور تعلق غلامی قائم ہو اور قائم رہے۔یہ ذہنیت ہماری جماعت میں پیدا ہونی چاہئے اگر یہ ذہنیت ہماری جماعت میں پیدا نہ ہو اور اگر ہم انفرادی اور اجتماعی طور پر اللہ تعالیٰ کی رحمانیت کے جلوے دنیا کو نہ دکھا سکیں تو ہم اللہ تعالیٰ کی توحید کو بھی دنیا میں قائم نہیں کر سکتے جس کے لئے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام مبعوث ہوئے اور آپ نے فرمایا کہ اس کے علاوہ میری اور کوئی غرض نہیں کہ میں توحید باری قائم کرنا چاہتا ہوں اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی عزت قائم کرنا چاہتا ہوں۔رحیمیت کے جلوے بھی (جیسا کہ میں نے کہا ہے ) ہمیں دکھانے چاہئیں، مالکیت کے جلوے بھی ہمیں دکھانے چاہئیں۔اگر آپ غور کریں تو آپ بھی میری طرح اسی نتیجہ پر پہنچیں گے کہ اگر ہم اپنی زندگیوں میں اللہ تعالیٰ کی ان چاروں امہات الصفات کے جلوے دکھانے میں کامیاب ہو جا ئیں تبھی اور صرف اسی صورت میں ہم خدا تعالیٰ کی توحید کو دنیا میں قائم کرنے میں کامیاب ہو سکیں گے۔پس اللہ تعالیٰ کی توحید کے قیام کے سلسلہ میں ہماری ایک ذمہ داری تو یہ ہے کہ ہم اللہ تعالیٰ کی صفات کی معرفت حاصل کر کے اپنی زندگی میں ان صفات کو قائم کر دیں اور دوسری ذمہ داری یہ ہے کہ ہم دنیا میں اللہ تعالیٰ کی صفات کے جلوے اپنی زندگی میں دکھا کر دنیا کو اللہ تعالیٰ کے حسن و احسان کے جلوے دکھانے کے بعد اس کی معرفت کے حصول کا ذریعہ بنیں تا کہ اللہ تعالیٰ کی توحید قائم ہو۔نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ تعالیٰ نے وہ عزت عطا کی ہے کہ انسان کا تصور بھی اس عظیم عزت کا