انوار القراٰن (جلد ۱) — Page 387
تفسیر حضرت خلیفة المسح الثالث کر سکتے ہیں۔۳۸۷ سورة ال عمران ۱۰۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے دسویں تفسیری معنی إِنَّ الدِّينَ عِنْدَ اللَّهِ الْإِسْلَامُ کے یہ کئے ہیں کہ اسلام اس بات کا نام ہے کہ بجز اس قانون کے جو مقرر ہے ادھر اُدھر بالکل نہ جاوے۔- البدر ۱۳ / مارچ ۱۹۰۳ ء صفحه ۵۹) پہلے معنی یہ تھے کہ جو راستہ دکھایا گیا ہے اس پر چلو اب دوسرے معنوں میں بتایا گیا ہے( گو یہ معنی اپنی ترتیب کے لحاظ سے دسویں ہیں لیکن نویں معنی اور یہ معنی دونوں پہلو بہ پہلو کھڑے ہیں ) کہ قرآن کریم کے علاوہ کسی اور راہ کو اختیار نہ کریں، نہ عقیدہ میں بدعت، نہ عبادت میں بدعت نہ عمل میں بدعت۔قرآن کریم سے باہر نہ جائیں جو صراط مستقیم قرآن کریم نے بتایا ہے اس کے علاوہ کسی راہ کو اختیار نہ کریں اپنی طرف سے اپنے پر مشقتیں نہ ڈالیں ہر قسم کی روحانی، ایمانی عملی بدعتوں سے پر ہیز کریں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سے پہلے بھی بعض بزرگ ایسے ہوئے ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے اپنے علاقہ میں بدعات کے خلاف جہاد کرنے کا حکم فرمایا اور توفیق عطا کی کہ وہ کامیابی کے ساتھ بدعات کے خلاف جہاد کریں بدعت کا تعلق سارے احکام قرآن کے ساتھ ہو جاتا ہے بعض بدعات ایسی ہیں جو ہوائے نفس یا شیطانی اثر کے نیچے نماز کے ساتھ لگ گئی ہیں اسی طرح روزے کی بدعتیں بھی ہیں اسی طرح حج کی بدعتیں بھی ہیں اسی طرح زکوۃ کی بدعتیں بھی ہیں ہر حکم جو خدا تعالیٰ نے ہمیں دیا شیطان نے پوری کوشش کی کہ اس کے ساتھ کچھ ایسی چیزیں بعض لوگوں کے دلوں میں پیدا کر دے کہ جو حقیقت سے دور اور خالص بدعت ہیں۔پس اِنَّ الدِّينَ عِندَ اللهِ الْإِسْلَام کے یہ معنی ہیں کہ جو قانون اللہ تعالیٰ نے مقرر کیا ہے اس سے زائد ، اس سے باہر، اس کے مخالف کوئی قانون نہیں بنانا کیونکہ نہ عقلاً (اگر اپنے عقائد پر صحیح طور پر قائم ہوں تو ہماری عقل بھی یہی کہے گی ) نہ شرعاً کوئی ایسی چیز عمل یا عقیدہ قرب الہی تک پہنچا سکتی ہے جس کا حکم قرآن حکیم نے نہ دیا ہو کیونکہ قرآن کریم ایک مکمل شریعت کی شکل میں ہمارے سامنے آیا ہے لیکن بہت سی بدعتیں عبادات ہیں، بہت سی بدعتیں ایمانیات کے متعلق آہستہ آہستہ ہم میں آگئیں اور خدا تعالیٰ کے بندے چودہ سوسال میں کھڑے