انوار القراٰن (جلد ۱)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 388 of 587

انوار القراٰن (جلد ۱) — Page 388

تغییر حضرت خلیفة المسح الثالث ۳۸۸ سورة ال عمران ہوتے رہے ان کے ذمہ خدا تعالیٰ کی طرف سے یہ کام لگایا گیا کہ ان بدعتوں کو پکڑو اور حقیقت و صداقت سے جھٹکا دے کر علیحدہ کرو اور پرے پھینک دو ان کی مخالفتیں بھی ہوئیں، ان کو ایذائیں بھی پہنچیں ، ان کو دکھ بھی دیئے گئے ، ان پر افتراء بھی باندھے گئے ، ان پر اتہام بھی لگائے گئے لیکن خدا کے وہ پیارے بندے خدا کے حکم کے ماتحت اس فرض کو ادا کرتے رہے جو ان کے کندھوں پر ڈالا گیا تھا۔غرض اِنَّ الدِّينَ عِنْدَ اللهِ الْاِسلام کے ایک معنی یہ ہیں کہ کتاب اللہ کے برخلاف جو کچھ ہو رہا ہے وہ سب بدعت ہے اور اس سے پر ہیز کرنا چاہیے۔۱۱۔گیارھویں معنی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے یہ کئے ہیں کہ یہ اسلام ہے کہ جو کچھ خدا کی راہ میں پیش آوے اس سے انکار نہ کرئے“۔وو البدر ۱۲؍ دسمبر ۱۹۰۲ ء صفحه ۵۳) یہ تو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے ایک فقرہ میں اس ٹکڑہ کے تفسیری معنی کئے ہیں لیکن جہاں آپ نے یہ تفسیری ترجمہ کیا ہے وہاں جو مضمون بیان ہوا ہے وہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی راہ میں مختلف قسم کی تکلیفیں اور مشقتیں اور دکھ سہنے پڑتے ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام نے متعدد جگہ اس پر روشنی ڈالی ہے ایک مشقت شریعت کی ہے مثلاً یہ مستحب بلکہ بڑا اچھا ہے کہ جس نے مقام محمود ظلی طور پر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے طفیل حاصل کرنا ہوا اسے تہجد کی نماز ادا کرنی چاہیے لیکن اگر سردی ہو تو لحاف سے نکلنا بڑی مشقت طلب بات ہے لیکن وہ اپنے رب کی رضا کے حصول کے لئے کوئی پرواہ نہیں کرتا اور اس کی عبادت تنہائی کی گھڑیوں میں دنیا سے پوشیدہ رہتے ہوئے بجا لاتا ہے اور صرف اس لئے بجالاتا ہے کہ اس کا رب اس سے خوش ہو جائے یا مثلاً گرمی کا موسم ہو گرمی میں نیند کا بہت کم وقت ملتا ہے اور انسان کو ضروری کاموں کے بعد سونے کے لئے بمشکل دو اڑھائی گھنٹے ملتے ہیں میں نے دیکھا ہے کہ میں صبح کی نماز سے قبل بمشکل ڈیڑھ سے اڑھائی گھنٹے تک سوسکتا ہوں دوست کہتے ہیں کہ آپ صبح کی نماز کے بعد سویا نہ کریں صحت اچھی رہے گی لیکن وہ میرے حالات کو جانتے نہیں میں اگر صبح کی نماز کے بعد نہ سوؤں تو میں بیمار ہو جاؤں کیوں جنتنی نیند قانون قدرت کے مطابق مجھے لینی چاہیے وہ پوری نہ ہو اس لئے مجبوراً مجھے سونا پڑتا ہے۔اسی طرح نماز کی پابندی ہے نماز با جماعت کے لئے پانچ وقت مسجد میں جانا بہر حال مشقت طلب