انوار القراٰن (جلد ۱) — Page 383
تفسیر حضرت خلیفة المسح الثالث ۳۸۳ سورة ال عمران دوستی اور اس کی پناہ سے محروم کر دیتی ہے۔اور چوتھی بات یہ بتائی گئی کہ گری ہوئی خواہش کی پیروی اختیار کرنا ، ہوائے نفس کی پیروی اختیار کرنا دل کو اللہ کی یاد سے غافل کر دیتا ہے پھر تو میں ہی میں ہو جاتا ہے نا۔انانیت جوش مارتی ہے۔66 یہ خواہش ہے، پوری ہونی چاہیے۔وہ خواہش ہے، پوری ہونی چاہیے۔ایک اور خواہش ہے وہ پوری ہونی چاہیے۔جب خواہشات کی اتباع شروع ہوگئی تو میں تمہیں بتا تا ہوں کہ پھر خواہشات کی کوئی انتہا نہیں رہتی۔جو سب سے زیادہ امیر اس وقت ہماری دنیا میں پایا جاتا ہے اس کے دل میں پھر بھی یہ خواہش ہے کہ کچھ اور مال مجھے مل جائے لیکن جو خدا کے بندے ہیں وہ مال لٹایا کرتے ہیں، فقیر بن کے ہاتھ پھیلا یا نہیں کرتے۔وہ خدا تعالیٰ کے سامنے جھکنے والے ہیں ، غیر اللہ کے سامنے جھکنے والے نہیں ہوا کرتے اور قرآن کریم سورۃ الکہف کی آیت ۲۹ میں یہ مضمون بیان کرتا ہے کہ گری ہوئی خواہش کی پیروی اختیار کرنے والا انسان ایسا دل رکھتا ہے جو اللہ کی یاد سے غافل ہوتا ہے اور جو دل ایک لحظہ کے لیے اپنے رب کی یاد سے غافل ہوا اس نے ہلاکت مول لی۔پانچویں بات خدا تعالیٰ نے ، پانچواں پہلو اس کا یہ بتایا ہے کہ ہوائے نفس کی پیروی اختیار کرنے سے ایمان بالآخرت جاتا رہتا ہے یعنی قیامت پر ایمان کہ ایک اور زندگی ہوگی جہاں جواب طلبی ہوگی ، جہاں انعامات ملیں گے، جہاں ایک ابدی زندگی عطا کی جائے گی، جہاں ایسی جنتیں ہونگی جن کی نعماء کا حسن اور نور اور لذت ہمارے جسمانی اعضا اور حواس جو ہیں وہ سوچ بھی نہیں سکتے ، ہماری عقل میں نہیں آ سکتے۔تو ہوائے نفس کی پیروی اختیار کرنا آخرت اور قیامت پر ایمان لانے میں روک بن جاتا ہے۔پھر ایسا شخص جو اپنی نفسانی خواہشات کے پیچھے پڑا ہوا ہے، وہ کہتا ہے یہی زندگی سب کچھ ہے ، جو کچھ جس طریق سے مل سکے حاصل کرو اور وہ اپنی روح کو، اپنے وجود کو ان جنتوں سے محروم کر دیتا ہے جو اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کے لیے پیدا کیں جو قرآن کریم کی اتباع اس رنگ میں کرتے ہیں جس رنگ میں حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کر کے دکھائی۔(خطبات ناصر جلد نهم صفحه ۲۹۹ تا۳۰۲)