انوار القراٰن (جلد ۱)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 379 of 587

انوار القراٰن (جلد ۱) — Page 379

تفسیر حضرت خلیفة المسح الثالث ۳۷۹ سورة ال عمران اس آیت کے معا بعد جو دوسری آیت ہے یعنی رَبَّنَا لا تزغ قلوبنا اس میں ہمیں یہ بتایا گیا ہے کہ دیکھو اتنی عظیم کتاب اتنی شاندار کتاب اتنی وسعتوں والی کتاب کہ جس کی حکومت بعثت نبوی سے اور نزول قرآن سے لے کر قیامت تک پھیلی ہوئی ہے بج دل لوگ اس کو بھی اپنی اور دوسروں کی (جس پر ان کا اثر ہوتا ہے ) ہلاکت کا باعث بنا دیتے ہیں۔خدا تعالیٰ کی رحمت سے جو علم حاصل کیا جائے اس کے سوا باقی ہر چیز متشابہ نہیں بلکہ مشتبہ ہے اور بلندیوں کی طرف لے جانے والی نہیں بلکہ گہرائیوں میں گرانے والی ہے۔اور یہاں جو ذکر ہے کہ جن کے دلوں میں کچھی ہے، وہ وہ لوگ نہیں ہیں جو اسلام پر ایمان ہی نہیں لائے بلکہ ایمان لانے کے بعد کچی پیدا ہوئی اور یا پھر ان کی سابق کبھی دور نہیں ہوئی، دونوں شکلیں ہوتی ہیں۔اتنی عظیم کتاب ہے اور وہ ان کے دلوں کی کبھی دور نہیں کر سکی ان کی شامتِ اعمال کی وجہ سے، ان کی بدقسمتی کی وجہ سے، ان کی ذہنی بیماری کی وجہ سے۔پس اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ تم اپنے زور سے صراط مستقیم پر بھی نہیں چل سکتے اور کبھی سے بھی محفوظ نہیں رہ سکتے بلکہ اس کے لئے بھی دعا کی ضرورت ہے۔اس واسطے نفاق سے اور دل کی بجی سے محفوظ رہنے کے لئے یہ دعا کیا کرو کہ : رَبَّنَا لَا تُزِغْ قُلُوبَنَا بَعْدَ إِذْ هَدَيْتَنَا وَهَبْ لَنَا مِنْ تَدُنكَ رَحْمَةً إِنَّكَ أَنْتَ الْوَهَّابُ - (خطبات ناصر جلد ہفتم صفحه ۱۱۱ تا ۱۱۸) اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ یہ کتاب هُدًى لِلْمُتَّقِينَ ہے اس میں اس طرف اشارہ کیا کہ تقویٰ کے بلند مقام پر پہنچنے کے باوجود انسان کو اللہ تعالیٰ کی ہدایت کی ضرورت رہتی ہے اور اس ضرورت کو یہ قرآن پورا کر رہا ہے۔متقیوں کے لئے ہدایت کا سامان اس کے اندر پایا جاتا ہے۔اللہ تعالیٰ نے اسی مضمون کو دعائیہ الفاظ میں دوسری جگہ اس طرح بیان کیا ہے کہ ربّنا لَا تُزِعُ قُلُوبَنَا بَعْدَ إِذْ هَدَيْتَنَا لَه ہدایت تیرے فضل سے ہمیں حاصل ہو جائے پھر بھی یہ خطرہ لاحق رہے گا کہ ہمارے دلوں میں کسی قسم کی کبھی نہ پیدا ہو جائے۔پس ہم تیرے حضور عاجزانہ دعا کے ذریعہ جھکتے ہیں اور یہ التجا کرتے ہیں کہ جب ہمیں ہدایت حاصل ہو جائے ، صراط مستقیم ہمیں مل جائے ، ہمارے دل سیدھے ہو جائیں، تو اس کے بعد ہمارے دلوں میں کوئی کجی نہ پیدا ہو۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے بھی اسی خطرہ کی طرف بار ہا متوجہ کیا ہے میں ایک مختصر سا اقتباس اس وقت دوستوں کے سامنے رکھنا چاہتا ہوں آپ فرماتے ہیں:۔