انوار القراٰن (جلد ۱)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 378 of 587

انوار القراٰن (جلد ۱) — Page 378

تفسیر حضرت خلیفہ المسیح الثالث ۳۷۸ سورة ال عمران فضل اس کے اوپر نازل ہو اور خدا تعالیٰ کی رحمت کے نتیجہ میں وہ یہ تفسیر سیکھے اور اللہ تعالیٰ کے فضل کے نتیجہ میں وہ راسِخُ فِي الْعِلْمِ بن جائے۔خدا تعالیٰ سے علم حاصل کرنے کے لئے قرآن پر کامل ایمان ضروری ہے۔جو شخص یہ کہتا ہے کہ قرآن کامل نہیں وہ شخص اللہ تعالیٰ سے تفسیر سیکھ ہی نہیں سکتا۔امنا پہ ہم اس کلام پر ایمان لائے۔ہم ایمان لائے کہ یہ کامل کتاب ہے اور اس بات پر بھی ایمان لائے کہ كُلٌّ مِّنْ عِنْدِ رَبِّنَا یعنی جو ایت محكمت ہیں وہ بھی اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہیں اور جو ایت مُتَشبهت ہیں وہ بھی اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہیں اور وہ ذات وہ ہستی جس کی ذات اور صفات میں کوئی تضاد نہیں پایا جاتا اس کے کلام میں بھی کوئی تضاد نہیں پایا جاتا۔اس بات پر وہ ایمان لاتے ہیں اور خدا تعالیٰ ان کو ایسے معانی سکھاتا ہے جو قرآن کریم کے دوسرے حصوں سے متضاد نہیں۔وہ تفسیر نہ ایت محکمت سے متضاد ہے اور نہ ایت متشبهت کے ان دیگر معانی سے متضاد ہے جو اللہ تعالیٰ نے اس کو یا کسی اور کو اس زمانہ میں یا کسی اور زمانہ میں سکھائے کیونکہ اس کی ذات میں اور اس کے علم میں تضاد نہیں ہے اور اس کی سکھائی ہوئی تعلیم میں بھی تقضاد پیدا نہیں ہو سکتا۔جس کو یہ چیز مل گئی، خدا تعالیٰ کی رحمت جس کی معلم بن گئی اس کو کامیابی کی ہر کلید مل گئی۔آج صبح میں نے ایک عجیب نظارہ دیکھا۔میں نے دیکھا کہ ایک چھپی ہوئی کتاب میرے سامنے پڑی ہے اس کا جو سر ورق ہے یعنی پہلا صفحہ جس پر نام لکھا ہوتا ہے اس کا اوپر کا حصہ تو میری نظر نے نہیں پکڑا لیکن اس کے نیچے فارسی کا ایک بڑا عجیب شعر ہے وہ شعر مجھے بھول گیا لیکن اس کے بعض الفاظ مجھے یاد ہیں اور مفہوم پوری طرح یاد ہے۔وہ شعر نوریست سے شروع ہوتا ہے اور پہلا مصرع ختم بھی نوریست پر ہوتا ہے۔پہلے مصرع کے معنی یہ ہیں کہ نور تو وہ نور ہے جو ایسے شخص کو ملے جو اپنے نفس پر، اپنی ذات پر ایک موت وارد کرتا ہے اور فنافی اللہ ہو جاتا ہے وہ نور، نہ کہ سعی بسیار، کلید کامرانی ہے یہ دوسرے مصرعے میں ہے۔دوسرے مصرعے کے شروع میں سعی بسیار اور آخر میں کلید کامرانی ہے۔انسانی تدا بیر اور انتہائی کوشش کامیابی کی چابی نہیں، کامیابی کی چابی یہ ہے کہ اپنے اوپر ایک موت وارد کر لینے کے بعد ، فنا فی اللہ ہو جانے کے بعد انسان کو ایک نور عطا ہو جائے۔پھر وہ جس میدان میں بھی قدم اٹھاتا ہے کامیابی اس کے قدم چومتی ہے۔اللہ تعالیٰ کے فضل اور اس کی رحمت سے۔