انوار القراٰن (جلد ۱)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 377 of 587

انوار القراٰن (جلد ۱) — Page 377

تفسیر حضرت خلیفة المسح الثالثة ۳۷۷ سورة ال عمران۔ہے، جس کے ایک سے زائد معنی ہو سکتے ہیں، جس کے سیکھنے کے لئے بہت کچھ کرنا پڑتا ہے اور جب اللہ تعالیٰ کا فضل نازل ہو تب خدا تعالیٰ خود وہ معانی سکھاتا ہے وہ ان متشابہات کے پیچھے پڑ جاتے ہیں اور پھر یہ کہ ان کے پیچھے پڑ کر ایک ایسی تاویل کرتے ہیں جو غلط ہوتی ہے۔وہ حقیقت سے دور لے جانے والی ہے۔آیات محکمات سے پرے لے جانے والی، اس کی ضد اور اس سے متضاد ایک تفسیر اور تاویل کر دیتے ہیں اور ان کا جو ارادہ ہوتا ہے، ان کی جو نیت ہوتی ہے وہ بھی شیطانی ہوتی ہے۔ابْتِغَاء الْفِتْنَةِ وہ فتنہ پیدا کرنا چاہتے ہیں، آیات قرآنیہ کے معانی کو ان کی حقیقت سے دور لے جاتے ہیں اور آیات محکمات کی ضد میں ان سے متضاد ایک معنی کر رہے ہوتے ہیں اور نیت ان کی ہوتی ہے فتنہ پیدا کرنا اور دعویٰ ان کا یہ ہوتا ہے کہ ہم تو صالحین کا گروہ ہیں ہم تو مصلح ہیں، ہم تو اصلاح چاہتے ہیں۔پانچویں بات اس آیت سے یہ پتہ لگی کہ ایت متشبهت کی تفسیر اللہ کے سوا کوئی نہیں جانتا ما يَعْلَمُ تَأْوِيْلَةَ إِلَّا اللهُ - خدا نے اعلان کر دیا کہ متشابہات کی تفسیر خدا کے سوا اور کوئی جانتا ہی نہیں۔کوئی انسان یہ دعوی نہیں کر سکتا کہ میں اپنی عقل یا فراست سے قرآن کریم کی آیت متشبهت یعنی متشابہ آیات کی تفسیر کر سکتا ہوں۔کوئی یہ دعویٰ نہیں کر سکتا کیونکہ قرآن کہتا ہے کہ مَا يَعْلَمُ تَأْوِيلَةٌ إِلَّا اللہ سوائے خدا تعالیٰ کے ان کی تاویل کوئی نہیں جانتا۔لیکن ساتھ ہی یہ بھی کہا کہ انسانوں میں سے وہ گروہ جو میرے ساتھ تعلق رکھنے والا ہے وہ گروہ جو علم میں کامل دستگاہ رکھنے والا ہے۔الرسخُونَ فِي الْعِلْمِ بطونِ قرآنی کو جانتے ہیں۔یہ اعلان کیا خدا تعالیٰ نے کہ اللہ کے سوا کوئی جانتا نہیں اور جو علم میں کامل دستگاہ رکھنے والے ہیں وہ بطونِ قرآنی کو جانتے ہیں۔اور ساتویں بات ہمیں یہ پتہ لگی کہ وہ اس لئے جانتے ہیں کہ وہ اللہ تعالیٰ سے یہ اسرار روحانی سیکھتے ہیں۔وہ اس کلام پر کامل ایمان رکھتے ہیں اور اس حقیقت کو سمجھتے ہیں کہ كُلٌّ مِّنْ عِنْدِ رَبَّنَا اور ان کا یہ اعلان ہوتا ہے کہ ہم اپنی طرف سے تفسیر نہیں کر رہے بلکہ ان ایت متشبهت کی تفسیر خدا تعالیٰ ہمیں سکھاتا ہے اور تب ہم بتاتے ہیں۔کوئی انسان اپنی طاقت سے اپنے زور سے اپنی فراست اور اپنی عقل سے ایک متشبت کی صحیح تفسیر بیان ہی نہیں کر سکتا۔اس کے لئے ضروری ہے کہ اللہ تعالیٰ کا