انوار القراٰن (جلد ۱) — Page 376
تفسیر حضرت خلیفة المسح الثالث و سورة ال عمران کتاب ہونا اور اس کا مدلل ہونا اور ابدی صداقتوں پر اس کا مشتمل ہونا۔پس دوسری بات یہ ہے کہ قرآن عظیم میں ایک مُحْكَمت پائی جاتی ہیں جن میں کوئی استعارہ نہیں اور جو کسی تاویل کی محتاج نہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا ہے کہ محکمت کے معنی ہیں کہ جن میں کوئی استعارہ نہیں پایا جاتا اور جو کسی تاویل کی محتاج نہیں ہیں۔میں نے کہا تھا کہ اس کے اندر ابدی صداقتیں ہیں اور بینات ہیں۔بینت ، محكمت ہیں۔ایک ظاہر چیز ہے جس میں کوئی چھپی ہوئی بات نہیں۔قرآن کریم نے کہا ہے کہ میں ایک ایسی کتاب ہوں جو بالکل مہین ہوں، ظاہر ہوں اور کوئی چیز مجھ میں چھپی ہوئی نہیں ہے، وہ ان آیات محکمات کے متعلق ہی کہا گیا ہے۔یا وہ تفاسیر قرآنی جوان متشابہات سے تعلق رکھتی ہیں جن کا تعلق ماضی سے تھا جس وقت وہ واقع ہو گیا تو وہ مبین کے اندر شامل ہوگئیں۔تیسری بات ہمیں یہ پتنگتی ہے کہ قرآن عظیم میں ایت محکمت بھی ہیں جو تاویل کی محتاج ہیں۔ان متشبهت کی بہت سی باتیں بعض استعارات کے پردہ میں مجوب ہیں اور اپنے اپنے وقت پر آ کر کھلتی ہیں اور جیسا کہ میں نے شروع میں بتایا تھا یہ قرآن کریم کی عظمت ہے، بہت بڑی عظمت ! کہ وہ ایک ایسا کلام ہے جس نے قیامت تک کے لئے انسان کی بہتری کے سامان کر دیئے۔ہر صدی کا ، ہر زمانے کا، ہر علاقے کا، ہر ملک کا انسان قرآن کریم کا محتاج اور اس کی احتیاج سے وہ کبھی بھی آزاد نہیں ہوسکتا۔جیسا کہ میں ابھی بتا چکا ہوں متشبھت میں پیشگوئیاں بھی ہیں اور متشبھت میں قرآن کریم کی وہ تفسیر بھی ہے جو زمانہ زمانہ سے تعلق رکھتی ہے لیکن وہ ابدی صداقتوں کی روشنی میں ہے اس سے با ہر نہیں اور ابدی صداقتوں کی ضد نہیں ہے بلکہ ان کی تائید کرنے والی ہے۔یہ ایک لمبا مضمون ہے میں مختصر کروں گا۔یہ تین باتیں ہوگئیں۔چوتھی بات ہمیں یہ پسینگتی ہے کہ قرآن کریم ایک عظیم کتاب ہے لیکن پھر بھی جن کے دلوں میں کبھی اور نفاق ہے وہ ان آیات کے پیچھے پڑ جاتے ہیں جو متشابہ ہیں۔یہ ان آیات سے پتہ لگتا ہے ایک تو وہ ان آیات کے پیچھے پڑ جاتے ہیں جو متشابہ ہیں اور محکمات کی طرف نظر ہی نہیں اٹھا کر دیکھتے یعنی جو چیز واضح ہے، قطعی ہے، جس میں شبہ کی کوئی گنجائش نہیں اس کو تو چھوڑ دیتے ہیں اور جس میں تاویل ہوسکتی