انوار القراٰن (جلد ۱)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 32 of 587

انوار القراٰن (جلد ۱) — Page 32

تفسیر حضرت خلیفہ امسح الثالث سورة الفاتحة (Daily Wages) کے ساتھ ایسا قانون باندھ دیا ہے کہ کم ہی مزدور ہیں جن کے حقوق انہیں ملتے ہیں جن کی ربوبیت کے یہ لوگ متکفل کہلائے جا سکتے ہیں۔یعنی وہ کہتے ہیں کہ ہم تمہاری جسمانی اور روحانی استعدادوں کی نشو و نما کریں گے اور اس کے لئے تمام سامان مہیا کرنے کے ہم ذمہ دار ہیں لیکن وہ عملاً ایسا کر نہیں سکے۔غرض ربوبیت کی صفت کے اندر جو یہ ذمہ داری ہے یہ کہیں نہیں پائی جاتی صرف خدا کے بندوں میں ہمیں یہ نظر آ سکتی ہے اور جو دوسری ذمہ داری ہم پر ہے اس کے ماتحت ہمیں خدا کا بندہ بننا چاہئے۔اگر ہم اللہ تعالیٰ کی توحید کو قائم کرنا چاہتے ہیں تو محض اس کی صفات کا عرفان کافی نہیں بلکہ اپنے اندر ان صفات کو پیدا کرنا بھی ضروری ہے ورنہ تو یہ ایک فلسفہ ہے جس کا حسن اور نہ احسان غیر کا دل موہ لینے کے قابل ہے جب تک وہ حسن اور احسان کا جذ بہ ہمارے اندر پیدا نہ ہو اس وقت تک ہم دنیا میں تو حید کو قائم نہیں کر سکتے۔پس ہر احمدی کا فرض ہے کہ وہ ربوبیت کی صفت اپنے اندر پیدا کرے اور جس حد تک اللہ تعالیٰ نے اسے توفیق اور طاقت عطا کی ہے وہ اپنے دائرہ میں پرورش کا متکفل ہو مثلاً اگر وہ خاندان کا بڑا فرد ہے تو وہ اپنی استعداد کے مطابق پرورش کا متکفل ہو۔اللہ تعالیٰ کسی پر اس کی استعداد سے زیادہ بوجھ نہیں ڈالتا اور پھر جماعت کا ایک فرد ہونے کی حیثیت سے بھی وہ ربوبیت کی صفت اپنے اندر پیدا کرے۔جماعت بحیثیت جماعت اپنے اندر ربوبیت کی صفت پیدا کرنے کیلئے۔اس لئے کوشش کرے کہ وہ سمجھے کہ دنیا میں ہم نے تو حید باری کو قائم کرنا ہے اور جب تک ہم اپنے نظام میں، اپنے کام میں اور اپنے عمل میں ربوبیت کی صفت پیدا نہیں کریں گے ہم دنیا میں توحید کو قائم نہیں کر سکتے۔غرض جس وقت تک ہر فرد جماعت بحیثیت ایک فرد جماعت، جماعت کے کام میں اپنی ذمہ داری کو نہ نہا ہے اس وقت تک تو حید حقیقی دنیا میں قائم نہیں ہو سکتی۔پس ہم پر بڑی بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ ہم ربوبیت کی صفت انفرادی حیثیت میں بھی اور اجتماعی طور پر بھی اپنے اندر پیدا کریں۔پھر رحمانیت کے جلوے ہیں۔ہمارے پہلوں نے بڑی خوبصورتی اور بڑے حسن کے ساتھ ان جلوؤں کو دنیا کے سامنے پیش کیا ہے۔حضرت عمر رضی اللہ عنہ ہی کا واقعہ ہے کہ آپ نے ایک بچے کو روتے دیکھا تو دریافت کیا کہ یہ کیوں روتا ہے۔اس بچے کی ماں نے بتایا کہ چونکہ دودھ پیتے بچے کا راشن منظور نہیں کیا جاتا اس لئے میں نے