انوار القراٰن (جلد ۱) — Page 368
۳۶۸ سورة البقرة تغییر حضرت خلیفة المسیح الثالث کے لئے آیات قرآنیہ سے ایک ایک فقرہ اٹھاتے ہیں تو بظاہر ایسا لگتا ہے کہ شاید تکرار ہے اور ایک ہی بات کو دہرایا گیا ہے۔بات دہرائی نہیں جاتی بلکہ ایک نئے پیرا یہ میں ایک نئی بات بتائی جاتی ہے۔سورۃ بقرۃ کی آیت کے اس ٹکڑے میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔اے رسول! ہدایت دینا تیرا کام نہیں ہے یہ خدا کا کام ہے وہ جس کے اعمال قبول کرے گا اسے ہدایت یافتہ گروہ میں شامل کر دے گا۔(خطبات ناصر جلد ہفتم صفحه ۲۲۵،۲۲۴) ز آیت ۲۷۴ لِلْفُقَرَاءِ الَّذِينَ أَحْصِرُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ لَا يَسْتَطِيعُونَ ضَرْبًا فِي الْأَرْضِ يَحْسَبُهُمُ الْجَاهِلُ اَغْنِيَاء مِنَ التَّعَفُّفِ تَعْرِفُهُم بِسِيْهُمْ لَا يَسْتَلُونَ النَّاسَ الْحَافًا ۖ وَمَا تُنْفِقُوا مِنْ خَيْرٍ فَإِنَّ اللهَ بِهِ عَلِيمٌ تو قرآن کریم کی ایک آیت بڑی وضاحت سے بتارہی ہے کہ وقف زندگی بھی مجاہدہ کی ایک قسم ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے سورۃ بقرہ کی آیت ۲۷۴ میں فرمایا کہ ہمارے احکام کے مطابق عمل کر کے امت محمدیہ میں کچھ ایسے لوگ بھی پیدا ہوں گے جنہیں دین کی خدمت میں لگایا گیا ہو گا۔اور مشاغل دنیا سے انہیں روک دیا گیا ہو گا۔(اُحْصِرُوا فِي سَبِيلِ اللهِ ) تو بتا یا کہ ان کو تمام ان مشاغل سے روک دیا جائے گا کہ جو سبیل اللہ کے مشاغل نہیں ہیں۔اللہ تعالیٰ کی رضا کی راہوں کے علاوہ دنیا کمانے اور دنیا کی عزت حاصل کرنے کے تمام راستے ان پر بند کر دیئے جائیں گے۔تو جن لوگوں پر اُحْصِرُوا فِي سَبِیلِ اللہ کا اطلاق ہوتا ہے وہ بھی مجاہدین ہیں۔ایک قسم کا مجاہدہ اور جہاد کرنے والے ہیں۔اس آیت کے ایک معنی یہ بھی ہیں کہ وہ لوگ جن پر دشمن، مخالف ،منکر دنیا کی راہیں بند کر دیتا ہے۔آئے دن ہمارے سامنے ایسی مثالیں آتی رہتی ہیں کہ بعض لوگ بعض احمد یوں کو صرف احمدیت کی وجہ سے نوکری نہیں دیتے یا امتحانوں میں اچھے نمبر نہیں دیتے کہ وہ ترقی نہ کر جائیں۔یا اگر تا جر ہیں تو ان کی تجارت میں روک ڈالتے ہیں۔اگر زمیندار ہیں تو طرح طرح سے ان کو تنگ کرنے کی کوشش