انوار القراٰن (جلد ۱)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 364 of 587

انوار القراٰن (جلد ۱) — Page 364

تفسیر حضرت خلیفة المسیح الثالث ۳۶۴ سورة البقرة وقت کب عروج ہوا تھا؟ وہ تو جنگ احزاب میں بھی پیٹ پر پتھر باندھ کے پھرتے تھے اور جانوں کی فکر لگی ہوئی تھی اور منافق جو تھے وہ ریشہ دوانیوں میں تھے اور یہود جو تھے وہ اپنا فتنہ تیز کرنے کی کوشش میں تھے۔اس وقت تو بڑی کمزوری کی حالت تھی ۳ھ میں اور مکہ کے کفار ہمیشہ مسلمانوں سے جنگ کرنے کی کوشش کرتے رہے۔بنو نضیر نے معاہدہ کی خلاف ورزی کی اور دو دفعہ آپ کو ہلاک کرنے کی تدبیر کی۔یہ وہ زمانہ ہے اس آیت کے بعد یہ واقعات ہوئے ہیں حالانکہ وہ مدینہ میں آپ کی پناہ میں رہ رہے تھے۔آخر حضور نے ان کا محاصرہ کیا اور وہ ہار کر مدینہ سے نکل گئے اور جن مسلمانوں نے اجازت مانگی تھی جب یعنی ان کی شرارتوں کی وجہ سے ان کو مدینہ چھوڑنا پڑا تو مسلمانوں نے جب وہ جانے لگے تو مسلمانوں نے اجازت مانگی ہم اپنے بچے جو ہیں وہ ان کے پاس نہیں رہنے دیتے اور جن مسلمانوں نے اجازت مانگی تھی کہ وہ اپنے بچوں کو جو یہودی ہو چکے تھے مجبور کر کے مسلمان بنا ئیں انہیں اس کی اجازت نہ فرمائی۔یہ اُستاد امام شیخ محمد عبدہ نے لکھا ہے اپنی تفسیر میں فرمایا کہ دراصل وہی پہلا دن تھا جس میں مسلمانوں کو کسی قدر جبر و اکراہ کا خیال آیا۔یہ محمد عبدہ نے لکھا ہے اپنی تفسیر میں دراصل وہی پہلا دن تھا جس میں مسلمانوں کو کسی قدر جبر و اکراہ کا خیال آیا اور اسی دن یہ فرمان نازل ہوا کہ دین میں جبر و اکراہ جائز نہیں۔استاد امام شیخ محمد عبدہ نے فرمایا کہ عام مذاہب میں خصوصاً عیسائیوں میں یہ دستور تھا کہ وہ لوگوں کو جبرا اپنے مذہب میں داخل کرتے اور یہ مسئلہ در اصل دین کی نسبت سیاست سے زیادہ تعلق رکھتا ہے کیونکہ ایمان جو دین کا اصل اور جو ہر ہے اس کے معنی ہیں نفس کا جھک جانا اور فرمانبردار ہوجانا۔اور نا ممکن ہے کہ یہ جھکنا اور یہ فرمانبرداری جبر اور زبردستی سے پیدا ہو۔یہ صرف وضاحت اور دلیل سے ہی پیدا ہوسکتی ہے۔اس لئے جب اکراہ و جبر کی نفی فرمائی تو فرما یا قَدْ تَبَيَّنَ الرُّشْدُ مِنَ الْغَيْ کہ ظاہر ہو چکا ہے کہ اس دین میں ہدایت فلاح اور نور کی طرف پیش قدمی ہے اور جو مذاہب اس کے خلاف ہیں وہ گمراہی اور بے راہ روی میں مبتلا ہیں۔یہ چند ایک مثالیں میں نے اس وقت دینی تھیں۔اسلام نے بڑی وضاحت سے دلائل دے کر سمجھا کر حقیقت کھول کر پوری طرح واضح کر دیا ہے کہ اس عظیم دین میں اس کامل دین میں اس مکمل دین