انوار القراٰن (جلد ۱)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 362 of 587

انوار القراٰن (جلد ۱) — Page 362

تفسیر حضرت خلیفة المسیح الثالث ۳۶۲ سورة البقرة نہیں ہماری آنکھیں دیکھ سکتیں تو وہ ایمان لے آئے تو لا إِكْرَاهَ فِی الدِّینِ کا بعض لوگوں نے اس کی یہ تفسیر کی ہے کہ جنگ کے بعد اس قسم کی دلی تبدیلی پیدا ہو جانے کے نتیجہ میں اگر کافر کچھ ، مومن بھی ہو جائیں تو یہ نہ کہو کہ جنگ کی وجہ سے مجبور ہو گئے وہ۔جنگ کی وجہ سے مجبور نہیں ہوئے جنگ تو دفاعی کی گئی تھی جنگ میں تو کمزوری کی حالت میں جب وہ جنگ کی گئی تھی۔ظاہری حالات میں اس جنگ میں جیتنا نا ممکنات میں سے تھا لیکن اس جنگ نے بعض عقلمندوں کو ایک نشان دکھا یا خدا کا اور اس نشان میں انہیں خدا تعالیٰ کا ہاتھ نظر آیا۔اس ہاتھ کو انہوں نے پکڑا اور وہ اسلام کی طرف آگئے۔تو ایسوں کو یہ نہ کہو کہ تم دل سے ایمان نہیں لائے مجبور ہو گئے ہو۔اس کی طرف اشارہ ہے اس آیت میں۔کیونکہ جب وہ جنگ کے بعد دین میں داخل ہونے کے لئے راضی ہو گئے دل سے اور اس کا اسلام صحیح ہوا تو وہ مجبور نہیں کہلائیں گے۔مطلب یہ ہوا کہ تم ایسے لوگوں کوا کراہ و جبر کی طرف منسوب نہ کرو۔اس کی مثال دوسری جگہ یہ ملتی ہے ( یہ امام رازی ابھی فرمارہے ہیں ) جہاں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ جو شخص تمہیں سلام کہے تم اسے یہ نہ کہو کہ تو مسلمان نہیں صرف ظاہر سے اسلام کا اعلان کر رہا ہے۔علامہ آلوسی ہیں۔ان کی ایک تفسیر ہے روح المعانی۔وہ اپنی تفسیر میں لکھتے ہیں۔انہوں نے یہ، ان کی وفات ہوئی ہے ۱۲۷۰ء میں تو مختلف روایتیں جو ان تک پہنچیں مختلف تفاسیر ان کا ذکر کر کے وہ کہتے ہیں : اس آیت کی ایک تفسیر یہ کی گئی ہے کہ دین کے متعلق خدا کی طرف سے کسی قسم کا جبر نہیں بلکہ اس کا سارا دارو مداراختیاراور رضا پر ہے۔اگر ایسا نہ ہو تو پھر ابتلا اور امتحان کا وجود ہی بے فائدہ ہو جائے اور یہ آیت ویسی ہی ہے جیسے دوسری جگہ فرمایا کہ جو چاہے ایمان لائے اور جو چاہے کفر اختیار کرے“۔اور تفسیر المنار محمد عبدہ کی ہے وہ درس دیتے تھے ان کے شاگرد نے لکھی ہے۔وہ لکھتے ہیں کہ ”ابن جریر نے بہت سی روایات جمع کی ہیں جن میں ہے کہ جاہلیت میں عورتیں نذرمانا کرتی تھیں۔( جاہلیت کے زمانہ میں یہودی مذہب اور عیسائی وہاں بستے تھے۔مدینے میں بھی تھے تو یہ مدینے کی بات ہے ) جاہلیت میں عورتیں نذر مانا کرتی تھیں کہ ہم اپنے بچوں کو یہودی بنادیں گے تا کہ وہ زندہ رہیں۔( جن عورتوں کے بچے مر جاتے تھے وہ حب اٹھرا کھانے کی بجائے نذر مانتی تھیں کہ یہودی بنادیں گے تاکہ وہ زندہ رہیں)۔پھر مسلمانوں کو اسلام نصیب ہوا تو انہوں نے ارادہ کیا کہ وہ اپنے ان بچوں کو جو اہل کتاب کے دین پر ہیں مجبور کریں کہ وہ اسلام لے آئیں“۔( جو بچے 66