انوار القراٰن (جلد ۱)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 354 of 587

انوار القراٰن (جلد ۱) — Page 354

۳۵۴ سورة البقرة تفسیر حضرت خلیفہ امسح الثالثة قدرت کے زبردست ہاتھ کے کرشمے بھی دیکھے۔گویا وہ دور ہونے کے باوجود انسان کے قریب بھی آگیا۔انسان کیا ہے؟ خدا کی ایک عاجز مخلوق ہے لیکن اس کے باوجود اس نے اپنے عاجز بندے سے شدید تعلق بھی قائم کر لیا۔وہ اپنے بندے کی جان کی جان بھی بن گیا اور اس کی ہستی کا سہارا بھی بن گیا۔اس کے باوجود وہ الگ کا الگ بھی رہا اور مخلوق کے ساتھ مخلوط نہیں ہوا اور اس کا ئنات میں سب کچھ پیدا کر کے پھر بھی وہ مخلوق کا عین نہیں بلکہ وہ اپنی ذات میں اکیلا اور حقیقی تقدس اور توحید کے مقام پرجلوہ افروز ہے۔خطبات ناصر جلد ہفتم صفحه ۲۱۰ تا ۲۱۱) ج على آیت ۷ ۲۵ تا ۲۵۸ لاَ إِكْرَاهَ فِي الدِّينِ قَد تَبَيَّنَ الرُّشْدُ مِنَ الْغَيِّ فَمَنْ يَكْفُرُ بِالطَّاغُوتِ وَيُؤْمِنُ بِاللهِ فَقَدِ اسْتَمْسَكَ بِالْعُرُوَةِ الْوُثْقَى لَا انْفِصَامَ لَهَا وَاللَّهُ سَمِيعٌ عَلِيمٌ اَللهُ وَلِيُّ الَّذِينَ آمَنُوا يُخْرِجُهُمْ مِنَ الظلمتِ إِلَى النُّورِ وَالَّذِينَ كَفَرُوا اَولِيَهُمُ الطَّاغُوتُ يُخْرِجُونَهُم مِّنَ النُّورِ إِلَى الظُّلمتِ أَوَلَيكَ اَصْحَبُ النَّارِ هُمْ فِيهَا خَلِدُونَ۔لا ۲۵۸ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ دین کے معاملہ میں کسی قسم کا جبر جائز نہیں کیونکہ ہدایت اور گمراہی کا باہمی فرق خوب ظاہر ہو چکا ہے۔پس سمجھ لو کہ جو شخص اپنی مرضی سے نیکی سے روکنے والے کی بات ماننے سے انکار کرے اور اللہ پر ایمان رکھے تو اس نے ایک نہایت مضبوط قابل اعتماد چیز کو جو بھی ٹوٹنے کی نہیں مضبوطی سے پکڑ لیا اور اللہ بہت سننے والا اور بہت جاننے والا ہے۔اللہ ان لوگوں کا دوست ہے جو ایمان لاتے ہیں۔وہ انہیں اندھیروں سے نکال کر روشنی کی طرف لاتا ہے اور جو کافر ہیں ان کے دوست نیکی سے روکنے والے ہیں وہ انہیں روشنی سے نکال کر اندھیروں کی طرف لے جاتے ہیں۔وہ لوگ آگ میں پڑنے والے ہیں وہ اس میں رہیں گے۔پھر فرمایا۔لا إكراه في الدِّينِ دین میں کوئی جبر نہیں۔دین کے معنی لغت عربی نے یہ کئے ہیں الطاعَةُ وَالْجَزاءُ اطاعت کرنا یا اعمال پر جزا کا دیا جانا۔وَاسْتَعِيرُ لِلشَّرِيعَةِ اور استعارہ اسے شریعت اور مذہب کے لئے بولا جاتا ہے۔اللہ تعالیٰ نے اطاعت کے معنی کو اس آیت میں ظاہر کیا ہے وَ اَخْلَصُوا دِینَهُم لِلهِ کہ انہوں نے اپنی اطاعت خدا