انوار القراٰن (جلد ۱) — Page 348
۳۴۸ سورة البقرة تفسیر حضرت خلیفة المسیح الثالث پھر سورہ احزاب کی اس آیہ کریمہ کے آخر میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔وَ كَانَ اللهُ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيمًا (الاحزاب: ۴۱ ) کہ ہر چیز کا علم اللہ تعالیٰ کو ہے جس کا مطلب یہ ہوا کہ اس بیان کا ایک گہرا اور ضروری تعلق حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے مقام ختم نبوت یعنی مقام محمدیت کے ساتھ ہے ورنہ بظاہر یہ کہہ کر کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم جسمانی طور پر کسی مرد کے باپ نہیں لیکن (۱) اللہ کے رسول ہیں اور (۲) خاتم النبیین ہیں اور پھر یہ کہنا کہ اللہ تعالیٰ کو ہر ایک چیز کا علم ہے اس میں کوئی حکمت ہونی چاہیے۔اس میں کوئی فلسفہ ہونا چاہیے ؟ اس میں کسی گہرے اور عمیق مضمون کا بیان ہونا چاہیے؟ چنانچہ میرے نزدیک علاوہ اور معانی کے ایک معنے یہ ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے اس آیہ کریمہ میں فرمایا کہ خاتم النبیین کے خود معنے نہ کرنا ختم نبوت کے معنے تمہارا پیدا کرنے والا رب تمہیں بتائے گا۔اگر خود معنے کرو گے تو غلطی کھاؤ گے اسلئے خود قرآن کریم نے اس کے معنی کئے ہیں۔اللہ تعالیٰ نے فرمایا وَ رَفَعَ بَعْضَهُم دَرَجت جس کے ایک معنی ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو عرش رب کریم تک رفعت روحانی بخشی۔قرآن کریم کی ہر آیت اور ہر فقرے اور فقرے کے ہر لفظ کے بہت سے بطون ہوتے ہیں اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اس کے ایک معنے یہ کئے ہیں کہ ایک وہ رسول جو ارفع ہے اپنے درجات کے لحاظ سے اور منفرد ہے رفعت روحانی میں۔کوئی رسول اس مقام میں آپ کا شریک نہیں ہے۔قرآن کریم میں ایک دوسری جگہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔وَ اِنَّكَ لَعَلَى خُلُقٍ عَظِيمٍ (القلم : ۵) که متخلق با خلاق اللہ کے مقام میں کوئی دوسرا انسان تو کیا کوئی دوسرا نبی بھی آپ کا مقابلہ نہیں کرسکتا بلکہ کوئی انسان آپ کے بلند مقام کی گرد کو بھی نہیں پہنچ سکتا۔یہ آپ کا مقام محمدیت ہے جس میں آپ تمام رسولوں میں افضل ہیں۔قرآن کریم نے بیان فرمایا کہ آپ کا کلام خدا کا کلام اور آپ کا ظہور خدا کا ظہور اور آپ کا آنا خدا کا آنا ہے (پہلے آسمانی نوشتوں نے بھی اسی رنگ میں اس مفہوم کو بیان کیا ہے ) فرمایا جَاءَ الْحَقُّ وَزَهَقَ الْبَاطِلُ (بنی اسراءیل: ۸۲) اس آیت کریمہ کی تشریح کرتے ہوئے حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں کہ حق کے لفظ سے اللہ تعالیٰ قرآن عظیم کی آخری اور کامل شریعت اور حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا وجود ہر سہ مراد ہیں۔ان پر حق کا لفظ حقیقی طور پر چسپاں ہو سکتا ہے۔قرآن کریم نے مقام محمدیت یعنی مذکورہ منفرد مقام کو مختلف طریقوں اور مختلف زاویوں سے بیان کیا ہے۔چنانچہ ہم عاجز بندوں کو تصویری زبان میں مقام محمدیت کی حقیقت کے سمجھانے کے لئے