انوار القراٰن (جلد ۱) — Page 347
تفسیر حضرت خلیفة المسیح الثالث ۳۴۷ سورة البقرة اور خاتم الانبیاء بھی ہیں۔خاتم الانبیاء یا ختم المرسلین ختم نبوت یا ختم رسالت کا جو مقام ہے اسے اسلامی خاتم اصطلاح میں مقام محمد بیت کہتے ہیں اور اس میں حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم منفرد ہیں۔یہ وہ فضیلت نہیں جس کا فَضَّلْنَا بَعْضَهُمْ عَلَى بَعْضٍ میں ذکر ہے نسبتی فضیلت میں بھی نسبتی لحاظ سے اوّل اور آخر ہوتا ہے۔اگر نفسِ رسالت میں کوئی فرق نہ ہو اور چشم تصور میں تمام انبیاء ا یک میدان میں کھڑے ہوں تو مشرق کی طرف سے دیکھیں گے تو شمال والا آخری ہوگا۔جنوب کی طرف سے دیکھیں گے تو جو نبی غربی کونے میں ہے وہ آخری نبی ہوگا۔پس ایک تو یہ نسبتی طور پر آخری ہے۔اس میں کسی فضیلت کا ذکر نہیں بلکہ یہ ایک نسبتی چیز ہے جس زاویہ سے آپ دیکھیں گے مقابلہ کی انتہا آخری بن جاتی ہے۔پس فَضَّلْنَا بَعْضَهُمْ عَلَى بَعْضٍ ایک بنیادی حقیقت ہے اور لا نُفَرِّقُ بَيْنَ أَحَدٍ مِنْ رُسُلِهِ بھی اپنی جگہ ایک بنیادی حقیقت ہے دراصل حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے پیدا کرنے والے ربّ کے حضور جو منفرد مقام حاصل تھا اس کے اظہار کے لئے آپ کو خاتم النبیین کہا گیا ہے تم النبین یعنی مقام محمدیت قرب اتم کا مقام ہے۔بالفاظ دیگر آپ صفات باری کے مظہر اتم تھے۔یہ شرف صرف آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو حاصل ہوا ہے دوسرا کوئی نبی اس مقام تک پہنچ نہیں سکا۔کہنے والے یہ کہتے ہیں کہ رسالت میں ایک لاکھ بیس ہزار رسول شامل ہیں۔ان میں ہم نے کوئی فرق نہیں کرنا لیکن مقام محمدیت کے لحاظ سے آپ کو جو منفرد مقام حاصل ہے وہ صفات باری کے مظہر اتم ہونے کا مقام ہے اس مقام کو انسانوں کے مقابل میں انسان کامل کہتے ہیں اور قرب کے لحاظ سے اللہ تعالیٰ کے قریب تر دوسرا کوئی شخص خدا کے پیار کے حصول میں آپ سے زیادہ اور قریب تر ہوا نہ ہوسکتا ہے غرض اس مقام محمدیت کو بیان کرنے کے لئے مختلف اصطلاحات استعمال کی جاتی ہیں۔پس سورہ احزاب کی آیت ۴۱ میں ایک تو یہ فرمایا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم دوسرے رسولوں کی طرح ایک رسول ہیں اور اس جہت سے رسول رسول میں فرق کرنے کی اجازت نہیں دی گئی اور دوسرے آپ خاتم النبیین ہیں اس جہت سے آپ بے مثل و مانند ہیں اور کوئی رسول آپ کے ہم پلہ نہیں۔اس حیثیت میں کسی کو آپ کے ساتھ منسلک کرنے کی اجازت نہیں دی گئی۔اس مقام محمد یت کے لحاظ سے آپ تمام رسولوں میں منفر دو ممتاز ہیں۔